فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے
پاکستان کے فیلڈ مارشل اور آرمی چیف سید عاصم منیر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق اہم امور پر بات چیت کریں گے۔ ان کے دورۂ ایران کے موقع پر یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران روانگی سے قبل گزشتہ ہفتے عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا۔
رائٹرز نے تین پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان یہ گفتگو عاصم منیر کے ایران کے دورے سے چند روز قبل ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس رابطے کا ایک اہم مقصد پاکستان سے ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ ٹیلیفونک رابطہ اس وقت ہوا جب امریکا کی جانب سے ایران اور اس کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جبکہ تہران کی جانب سے بھی امریکی دباؤ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے عاصم منیر سے رابطہ کیا گیا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ رائٹرز کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کی مکمل تفصیلات بھی سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران پہنچے ہیں، جہاں ان کی ایرانی حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
عاصم منیر کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آرہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کو اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
پاکستان ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق موجودہ صورتحال میں عاصم منیر کے دورۂ ایران کا ایک اہم پہلو دونوں فریقوں کے درمیان پائی جانے والی بداعتمادی کو کم کرنے کی کوشش بھی ہوسکتا ہے۔
ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران علاقائی سلامتی، جاری کشیدگی، مذاکرات کی بحالی اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت متوقع ہے، جبکہ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ خطے میں مزید کشیدگی کے بجائے سفارتی حل کی طرف پیش رفت کی جائے۔