اسرائیلی فورسز نے اردن میں شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت کے صرف ایک روز بعد جنوبی شام میں دوبارہ کارروائی کی ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید نمایاں ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق متعدد اسرائیلی فوجی گاڑیاں مغربی درعا کے علاقے میں داخل ہوئیں اور ماریہ گاؤں میں پیش قدمی کی۔ اسرائیلی فورسز کی اس کارروائی کے دوران علاقے میں نقل و حرکت اور تلاشی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اس سے ایک روز قبل قنیطرہ کے علاقے میں بھی اسرائیلی فورسز نے کارروائی کی تھی، جہاں ایک چرواہے کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ جنوبی شام کے مختلف علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے چھاپوں، تلاشیوں، گرفتاریوں اور فوجی چیک پوسٹوں کے قیام کی اطلاعات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اردن میں امریکی ثالثی کے تحت شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے، جن میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور سیکیورٹی معاملات پر بات چیت کی گئی۔
شامی وفد کی قیادت وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کی، جبکہ مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا بتایا گیا۔ تاہم مذاکرات کے اگلے ہی روز جنوبی شام میں اسرائیلی فورسز کی کارروائی نے سفارتی کوششوں کے حوالے سے سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
جنوبی شام کے درعا اور قنیطرہ کے علاقے گزشتہ کچھ عرصے سے اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں اسرائیلی فورسز کی زمینی پیش قدمی اور کارروائیوں کے باعث مقامی آبادی میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب شام اسرائیلی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتا رہا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی ضروریات اور سرحدی خطرات کا حوالہ دیتا ہے۔ خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں اور سفارتی رابطوں کے باعث شام اور اسرائیل کے درمیان صورتحال بدستور حساس ہے۔