تازہ ترین

برطانیہ میں شدید گرمی، 31 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

0

لندن — برطانیہ میں شدید گرمی کی پانچویں لہر نے موسم کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا، جہاں درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ہے۔ غیر معمولی گرمی کے باعث ملک میں 30 ڈگری سے زائد درجہ حرارت والے دنوں کی تعداد نے 31 سال پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے، جبکہ حکام نے شہریوں کو شدید گرمی کے ممکنہ اثرات سے خبردار کر دیا۔

محکمۂ موسمیات نے آج جمعرات کو صبح 9 بجے سے نصف شب تک لندن، جنوب مشرقی انگلینڈ، ایسٹ مڈلینڈز، مشرقی انگلینڈ، ویسٹ مڈلینڈز اور ساؤتھ یارکشائر کے بعض علاقوں کے لیے نایاب ’’امبر، انتہائی گرمی‘‘ کی وارننگ جاری کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 36 سے 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے، جس کے باعث رواں سال کا گرم ترین دن ریکارڈ ہونے کا امکان ہے۔

برطانیہ میں رواں سال اب تک 35 دن ایسے گزر چکے ہیں جن میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کیا، جبکہ 1995 میں ایسے دنوں کی تعداد 34 ریکارڈ کی گئی تھی۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق امبر وارننگ والے علاقوں میں درجہ حرارت 36، 37 اور ممکنہ طور پر 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث بنیادی ڈھانچے، ریلوے لائنوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ برطانیہ کا انفراسٹرکچر اس سطح کی گرمی کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

اگر درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرتا ہے تو یہ 2026 کا اب تک کا گرم ترین دن ہوگا، جبکہ 38.5 ڈگری سے اوپر درجہ حرارت پہنچنے کی صورت میں اگست کا گرم ترین دن ریکارڈ ہونے کا امکان ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کا امکان کم ہے۔

رواں سال اب تک برطانیہ کا بلند ترین درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو 28 جون کو نورفوک کے علاقے لنگ وُڈ میں ریکارڈ ہوا تھا۔

شدید گرمی کے باعث ایک اور تشویشناک صورتحال بھی سامنے آئی ہے۔ انگلینڈ اور ویلز میں رواں سال جنگلات اور جھاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات کی تعداد پہلے ہی پورے 2025 کے برابر پہنچ چکی ہے، جس سے خشک موسم اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات واضح ہو رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.