تازہ ترین

پانچ گھنٹے مذاکرات بھی بے نتیجہ، پیٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ برقرار

0

کراچی: پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے درمیان طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان برقرار ہے۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ ہفتہ 15 اگست کی صبح 6 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا گیا۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش کی قیادت میں وفد اور وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے درمیان گزشتہ شب تقریباً پانچ گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا اور مذاکرات کا ماحول بھی کشیدہ رہا۔

ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے دیے گئے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم پر وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ مذاکرات کے دوران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ رد و بدل کے نظام میں تبدیلی سے انکار کر دیا۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے مطابق حکومت نے ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے 34 پیسے اضافے کے معاملے پر بات کرنے کی یقین دہانی ضرور کرائی، تاہم اس کی منظوری وفاقی کابینہ سے مشروط کر دی گئی ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ محض یقین دہانی ان کے مطالبات کے حل کے لیے کافی نہیں۔

حکومتی موقف اور مذاکراتی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم ڈیلرز کا وفد فوری طور پر کراچی واپس روانہ ہوگیا، جہاں ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ ہفتہ 15 اگست کی صبح 6 بجے سے ملک گیر ہڑتال کے فیصلے پر وہ بدستور قائم ہیں۔ ہڑتال غیر معینہ مدت کے لیے ہوگی، جس کے باعث ملک بھر میں پیٹرول کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز کے وفد میں چیئرمین ملک خدا بخش کے علاوہ وائس چیئرمین طارق حسن، وائس چیئرمین انور کمال، سندھ کے صدر امیر خان، پنجاب سے وائس چیئرمین راجا وسیم، چودھری باہر، خواجہ کاشف الٰہی، خیبر پختونخوا سے عبد الماجد خان سمیت دیگر نمائندے شامل تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.