تازہ ترین

ہیپاٹائٹس سی کے خلاف بڑی کامیابی، انگلینڈ میں اموات میں 36 فیصد کمی

0

لندن: انگلینڈ نے خاموشی سے جگر کو نقصان پہنچانے والی خطرناک بیماری ہیپاٹائٹس سی کے خلاف نمایاں پیشرفت حاصل کرلی ہے اور موجودہ رفتار برقرار رہی تو ملک عالمی ادارۂ صحت کے مقررہ ہدف سے پہلے اس بیماری کو عوامی صحت کے بڑے مسئلے کے طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ، بروقت تشخیص اور جدید ادویات کی دستیابی نے اس پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی ایک ایسا وائرس ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے اور اکثر طویل عرصے تک بغیر واضح علامات کے جسم میں موجود رہتا ہے۔ بہت سے افراد کو کئی برس تک اس بیماری کا علم نہیں ہوتا، تاہم بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ جگر کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

انگلینڈ میں ہیپاٹائٹس سی کے معلوم کیسز میں سے 80 فیصد کے علاج کا ہدف پہلے ہی حاصل کیا جاچکا ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس وائرس سے ہونے والی اموات میں 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے 2030 کے اہداف کے تحت ہیپاٹائٹس سی سے ہونے والی اموات میں 2015 کے مقابلے میں 65 فیصد کمی لانا ضروری ہے۔ انگلینڈ ابھی اس ہدف تک نہیں پہنچا، تاہم موجودہ پیشرفت برقرار رہی تو حکام کو امید ہے کہ یہ ہدف 2030 سے پہلے حاصل کرلیا جائے گا۔

ہیپاٹائٹس سی کے علاج میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ جدید اینٹی وائرل گولیاں عام طور پر صرف 8 سے 12 ہفتوں کے علاج سے 95 فیصد سے زیادہ کیسز میں کامیاب ثابت ہوتی ہیں، جس سے بیماری کے خاتمے کی کوششوں کو نمایاں تقویت ملی ہے۔

ایک لاکھ سے زائد افراد کا علاج

این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق 2015 سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص کرکے ان کا علاج کیا جاچکا ہے۔ اس پیشرفت کے باعث انگلینڈ بیماری کے خاتمے سے متعلق ایک اہم ہدف پہلے ہی حاصل کرچکا ہے۔

سنہ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں تقریباً 50 ہزار 200 بالغ افراد اب بھی ہیپاٹائٹس سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان میں سے 84.6 فیصد افراد کی تشخیص ہوچکی ہے، جو 90 فیصد کے مقررہ ہدف سے کچھ کم ہے۔

ہیپاٹائٹس سی بنیادی طور پر خون کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس میں متاثرہ شخص کے ساتھ سوئیاں یا انجیکشن شیئر کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم خون کے عطیات میں اس وائرس کی اسکریننگ پہلے ہی کی جاتی ہے، جس سے منتقلی کے خطرات میں کمی آئی ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق حادثات اور ایمرجنسی کے شعبوں میں خون کے ٹیسٹ، جی پی کے پاس رجسٹریشن کے دوران ٹیسٹنگ اور گھروں پر مفت ٹیسٹ کی سہولت نے ایسے افراد کی شناخت میں مدد دی ہے جو اس بات سے لاعلم تھے کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں۔

مفت اور خفیہ گھریلو ٹیسٹ کی سہولت

ہیپاٹائٹس سی ٹرسٹ کے مطابق انگلینڈ اپنی تاریخ کی اہم ترین عوامی صحت کی کامیابیوں میں سے ایک کے "بالکل قریب” پہنچ چکا ہے۔

این ایچ ایس کے نیشنل میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر فرینکی سورڈز کا کہنا ہے کہ انگلینڈ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے 2030 کے ہدف کو مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

ان کے مطابق این ایچ ایس ہر ایسے شخص کو تلاش کرکے علاج فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جسے مدد کی ضرورت ہے، جبکہ زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو مفت اور خفیہ گھریلو ٹیسٹ کٹ حاصل کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔

این ایچ ایس نے بالخصوص ان افراد کو ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کرانے کی ترغیب دی ہے جو یوکرین، رومانیہ، ایسٹونیا، لٹویا، پولینڈ، البانیہ، لتھوانیا، بلغاریہ، چیکیا یا سلوواکیہ میں پیدا ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق ان میں سے بعض افراد 1991 سے قبل طبی یا دانتوں کے علاج کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے ہوسکتے ہیں، جب طبی طریقہ کار میں انفیکشن سے بچاؤ کے موجودہ معیارات رائج نہیں تھے۔

انگلینڈ میں لوگ جی پی سے رابطہ کیے بغیر بھی این ایچ ایس کی مفت اور خفیہ گھریلو خود ٹیسٹنگ کٹ حاصل کرسکتے ہیں۔

معمول کے ٹیسٹ سے بیماری کا انکشاف

ایسے افراد میں 65 سالہ پال ایٹ ویل بھی شامل ہیں جن میں معمول کے خون کے ٹیسٹ کے دوران ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوئی۔

لنکاشائر کے شہر بلیک برن سے تعلق رکھنے والے پال نے بتایا کہ انہیں اپنی تشخیص پر یقین ہی نہیں آیا کیونکہ وہ خود کو بالکل صحت مند محسوس کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا پہلا ردعمل بے یقینی کا تھا اور وہ مسلسل سوچتے رہے کہ آخر وہ اس وائرس کا شکار کیسے ہوئے۔

پال کے مطابق انہیں بروقت ملنے والی طبی مدد نے ان کی زندگی میں بڑا فرق پیدا کیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ وائرس سے کیسے متاثر ہوئے، تاہم امکان ظاہر کیا گیا کہ کئی دہائیاں قبل جنوبی افریقا میں ہونے والی ایک سرجری اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔

آلودہ خون کا اسکینڈل

انگلینڈ میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی کوششوں کا ایک اہم پس منظر برطانیہ میں آلودہ خون کا وہ بڑا اسکینڈل بھی ہے، جس کے دوران ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے۔

1970 سے 1991 کے درمیان برطانیہ میں 30 ہزار سے زیادہ افراد آلودہ خون کی مصنوعات اور خون کی منتقلی کے ذریعے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوئے۔

اس واقعے کو این ایچ ایس کی تاریخ کی سب سے بڑی طبی تباہ کاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسکینڈل کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ مزید اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے عوامی انکوائری کمیشن نے قرار دیا تھا کہ حکام نے اسکینڈل کو چھپایا اور متاثرہ افراد کو ناقابل قبول خطرات سے دوچار کیا۔

خاتمے کے آخری مرحلے پر توجہ

انگلینڈ میں اب ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص اور علاج کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور جدید ادویات دستیاب ہیں۔ حکام کے مطابق اب توجہ ان افراد تک پہنچنے پر مرکوز ہے جو اب بھی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، تاکہ ان کی بروقت تشخیص اور علاج مکمل کیا جاسکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیسٹنگ، تشخیص اور علاج کا موجودہ سلسلہ برقرار رہا اور باقی رہ جانے والے مریضوں تک بھی رسائی ممکن بنائی گئی تو انگلینڈ ہیپاٹائٹس سی کو عوامی صحت کے ایک بڑے مسئلے کے طور پر ختم کرنے والا دنیا کے اولین ممالک میں شامل ہوسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.