تازہ ترین

غذائی تحفظ کے لیے پاکستان و روس کا زراعت و لائیو اسٹاک میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

0

پاکستان اور روس نے پیر کے روز زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کیے، جن میں خاص طور پر فارم مشینری، کھاد، کیڑے مار ادویات، ویکسینز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کی گئی۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے روسی وفاقی وزارتِ اقتصادی ترقی کے نمائندے نکیتا بوزانوف کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور غذائی تحفظ و زرعی پیداواریت سے جڑے شعبوں میں تجارت، ٹیکنالوجی اور تکنیکی تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔

انہوں نے فارم پیداواریت بہتر بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور میکانائزیشن کے فروغ کے لیے جدید و مؤثر زرعی مشینری کی ضرورت پر زور دیا اور اس شعبے میں روس کے ساتھ زیادہ تعاون میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔

رانا تنویر نے سستے داموں پر معیاری کھاد اور کیڑے مار ادویات کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ روس کے ساتھ مضبوط تعاون زرعی پیداواریت بڑھانے اور غذائی تحفظ کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیر نے لائیو اسٹاک اور جانوروں کی صحت کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا، خاص طور پر معیاری ویکسینز اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی کے حوالے سے۔

بوزانوف نے وزیر کو پاکستان کے ساتھ زرعی تعاون بڑھانے میں روس کی دلچسپی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ روسی کمپنیاں اور ادارے پاکستان کو مشینری، کھاد، کیڑے مار ادویات اور ویکسینز کی فراہمی کے مواقع تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے زراعت سے متعلق مصنوعات میں دوطرفہ تجارت بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔

دونوں فریقین نے زرعی پیداواریت، فارم ان پٹس اور پاکستان کے وسیع تر غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے عملی اور باہمی طور پر فائدہ مند منصوبوں پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.