تازہ ترین

خنجراب بارڈر سے ریکارڈ تجارت، کسٹمز نے تقریباً 15 ارب روپے ریونیو جمع کرلیا

0

پاکستان اور چین کے درمیان زمینی تجارت کے لیے اہم خنجراب سوست راہداری نے گزشتہ مالی سال کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کسٹمز حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران خنجراب پاس کے راستے درآمدات سے تقریباً 15 ارب روپے کا ریکارڈ ریونیو حاصل ہوا، جبکہ اسی راستے سے تقریباً 2.8 ارب روپے مالیت کی پاکستانی برآمدات چین اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک پہنچیں۔

اعدادوشمار کے مطابق خنجراب کے راستے کسٹمز ریونیو تقریباً 14 ارب 93 کروڑ روپے رہا، جو گزشتہ مالی سال کے تقریباً 13 ارب 67 کروڑ روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ موجودہ شرح مبادلہ کے حساب سے یہ رقم تقریباً 53 سے 55 ملین ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

خنجراب سوست کوریڈور کے ذریعے چین سے پاکستان آنے والی مختلف اشیا کی نقل و حرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مشینری، الیکٹرک گاڑیوں، صارفین کی مختلف مصنوعات اور دیگر سامان کی درآمد میں تیزی دیکھی گئی، جبکہ کچھ ایسا کارگو جو ماضی میں کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے پاکستان پہنچتا تھا، اب شمالی زمینی راستے سے بھی منتقل کیا جارہا ہے۔

درآمدات میں اضافے سے جہاں حکومت کو کسٹمز ریونیو کی مد میں بڑا فائدہ حاصل ہوا، وہیں خنجراب کے راستے پاکستانی برآمدات کا حجم تقریباً 2.8 ارب روپے رہا، جو چین کے ساتھ مجموعی تجارتی حجم کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ یہ صورتحال پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں موجود بڑے عدم توازن کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

ٹی آئی آر ٹرانزٹ نظام کے تحت پاکستانی مصنوعات کو چین اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔ ان مصنوعات میں چیری، دیگر پھل، قیمتی پتھر، دستکاری، چاول، ملبوسات اور چمڑے سے بنی اشیا شامل ہیں۔

خنجراب سوست روٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافے سے گلگت بلتستان میں بھی کاروباری مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ سوست ڈرائی پورٹ سے وابستہ ٹرانسپورٹرز، کسٹمز ایجنٹس، تاجروں اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم حکام کے لیے برآمدات کا حجم بڑھانا اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان مجموعی دوطرفہ تجارت حالیہ برسوں میں 25 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان کی چین کو برآمدات عموماً 2.5 سے 2.8 ارب ڈالر کے درمیان رہتی ہیں، جبکہ چین سے پاکستان کی درآمدات تقریباً 16 سے 20 ارب ڈالر یا اس سے زائد تک پہنچ چکی ہیں۔ اس فرق کے باعث پاکستان کو چین کے ساتھ تجارت میں مسلسل بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔

خنجراب کے راستے بڑھتی ہوئی کارگو سرگرمیوں نے پاکستان کے لاجسٹکس نظام کو بھی تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں، خصوصی مشینری اور دیگر مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے شمالی زمینی راستہ روایتی سمندری سپلائی چین کے مقابلے میں ایک اضافی متبادل فراہم کررہا ہے۔

ٹی آئی آر ٹرانزٹ نظام کے پھیلاؤ سے پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی تجارتی رابطے بڑھانے کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں خنجراب کوریڈور چین، پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان مستقبل کی تجارت کے لیے ایک اہم زمینی پل بن سکتا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے لیے بھی خنجراب روٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت خاصی اہم ہے۔ سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں توانائی، سڑکوں، موٹرویز، ٹرانسمیشن لائنز اور گوادر سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی گئی، جبکہ اب سی پیک کے دوسرے مرحلے، جسے عموماً سی پیک 2.0 کہا جاتا ہے، میں صنعتی ترقی، خصوصی اقتصادی زونز، زراعت، معدنیات، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ترقی، گرین منصوبوں، کاروباری سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔

اس صورتحال میں خنجراب کے ذریعے بڑھتی ہوئی تجارت پاکستان کے شمالی علاقوں کو چینی اور وسطی ایشیائی منڈیوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اگر برآمدی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے اور لاجسٹکس و کسٹمز کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تو یہ راستہ مستقبل میں پاکستان کے لیے آمدنی اور برآمدات کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

حکام نے خنجراب کے راستے غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کردی ہیں۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران تقریباً 15 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کے اسمارٹ فونز، شراب اور خنزیر کے گوشت سمیت مختلف اشیا ضبط کی گئیں، جنہیں قانونی کارروائی کے بعد تلف کرنے یا نیلامی کے مراحل سے گزارا گیا۔

حکام کے مطابق اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کا مقصد غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے ساتھ ساتھ قانونی کاروبار کو تحفظ دینا اور زیادہ سے زیادہ تجارتی سرگرمیوں کو رسمی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔

خنجراب کوریڈور میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان اور چین کے وسیع تر تعلقات کے تناظر میں بھی اہم ہیں۔ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو ’’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘‘ اور ’’آئرن برادرز‘‘ کی شراکت داری قرار دیتے ہیں۔ چین پاکستان کا اہم سرمایہ کاری شراکت دار اور دفاعی تعاون میں بھی ایک بڑا ملک ہے، جبکہ دونوں ممالک جے ایف-17 جیسے مشترکہ دفاعی منصوبوں کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر بھی تعاون کرتے ہیں۔

خنجراب سے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان کے شمالی زمینی راستے مستقبل میں صرف چین کے ساتھ تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.