کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ہفتہ وار جائزے کا فیصلہ
کوئٹہ میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں، ذخیرہ اندوزی اور خودساختہ گرانفروشی کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ہفتہ وار جائزے کے تحت نرخ مقرر کرنے کا طریقہ کار وضع کر لیا ہے، جبکہ شہر میں غیر قانونی پارکنگ اور گداگری کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ایک قومی مسئلہ ہے، جو صرف کوئٹہ تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بھی سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ذخیرہ اندوزی اور خودساختہ گرانفروشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی شخص اس صورت حال سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق محکمہ خوراک اور محکمہ صنعت کے اشتراک سے آٹے کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ مناسب قیمت مقرر ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں متعلقہ سب ڈویژنز اور تحصیلوں میں مقررہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں گی۔
گداگری کے خلاف کارروائیوں سے متعلق مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ یہ اقدامات ضلعی انتظامیہ کی ماہانہ کارکردگی کے جائزے کا حصہ ہیں۔ شہر میں گداگری سے متعلق شکایات پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ سماجی بہبود کے تعاون سے کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے کارروائیوں کے دوران 18 افراد کو گرفتار کرکے جیل بھجوایا گیا۔
پارکنگ کے معاملے پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے تحت مخصوص پارکنگ مقامات لیز پر دیے جاتے ہیں، جن سے حکومت کو آمدن حاصل ہوتی ہے۔ تاہم غیر قانونی پارکنگ اور غیر مجاز موٹر سائیکل اسٹینڈز کے خلاف شکایات ملنے پر انتظامی ٹیمیں موقع کا معائنہ کرتی ہیں اور خلافِ قانون قائم اسٹینڈز ختم کروا دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل امداد چوک پر موٹر سائیکل اسٹینڈ قائم ہونے کی شکایت موصول ہوئی تھی۔ انتظامی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر جانچ پڑتال کی تو اسٹینڈ غیر قانونی ثابت ہوا، جس کے بعد اسے فوری طور پر ختم کروا دیا گیا۔
مہر اللہ بادینی نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی شکایات کے ازالے، اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی، گرانفروشی اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور شہر میں غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔