پاکستان نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے قطر سے آنے والی ایک اور ایل این جی کھیپ کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کا انتظام کرلیا ہے، جس سے ملک کو جاری توانائی بحران کے دوران عارضی ریلیف ملنے کی امید ہے۔ کھیپ آبنائے ہرمز عبور کرچکی ہے اور پاکستان کی جانب رواں ہے۔
ذرائع کے مطابق ایل این جی بردار جہاز نے قطر کے راس لفان ٹرمینل سے کارگو حاصل کیا تھا اور حکومت کی سطح پر ہونے والے رابطوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ رواں ماہ قطر سے پاکستان پہنچنے والی دوسری ایل این جی کھیپ ہوگی۔
پاکستان کو اس سے قبل 10 ستمبر کو قطر سے ایل این جی کی ایک کھیپ موصول ہوئی تھی، جب ال مروانہ نامی جہاز تقریباً 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر پورٹ قاسم پہنچا تھا۔ یہ کھیپ بھی آبنائے ہرمز عبور کرکے پاکستان پہنچی تھی۔
تازہ کھیپ کی آمد ایسے وقت میں ہورہی ہے جب آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث ایل این جی کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے قطر سے طویل مدتی ایل این جی معاہدوں پر خاصا انحصار کرتا ہے، جبکہ عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں بھی بلند سطح پر موجود ہیں۔
حکام کے مطابق اگر یہ کھیپ آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب نہ ہوتی تو پاکستان کو اضافی ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ سے خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کرنا پڑ سکتا تھا، جہاں قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطحوں تک پہنچ چکی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے توانائی شعبے کو گیس کی فراہمی میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے بعض علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے، جبکہ مقامی گیس کی پیداوار میں بھی بعض فیلڈز کی تکنیکی اور دیگر وجوہات کے باعث کمی رپورٹ ہوئی ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق نئی ایل این جی کھیپ پاکستان کے لیے توانائی کی فراہمی میں کچھ عرصے کے لیے سہارا فراہم کرسکتی ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی ایل این جی قیمتوں کے باعث مستقبل کی سپلائی اب بھی چیلنج بنی ہوئی ہے۔