حوثی حملے اشتعال انگیز اقدامات ہیں، فوری بند کیے جائیں: پاکستان
نیویارک: پاکستان نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کردیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سمندری سلامتی، علاقائی امن اور استحکام کیلئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ’’محفوظ سمندر، مشترکہ سلامتی‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے باب المندب میں تجارتی جہازوں اور سمندری عملے کو نشانہ بنانا سمندری سلامتی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے حوثیوں سے ان اشتعال انگیز اقدامات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ باب المندب میں جاری صورتحال علاقائی ممالک کے امن اور ترقی کیلئے بھی خطرہ ہے، خصوصاً سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
پاکستان نے کشیدگی میں فوری کمی، تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی اور سمندری راستوں پر معمول کی آمدورفت بحال کرنے پر بھی زور دیا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق عالمی تجارت اور معیشت کیلئے سمندری راستوں کو تنازعات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے بلا تعطل توانائی کی فراہمی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا، بالخصوص اس کے ترقی پذیر ممالک اور عالمی رسد کے نظام پر اثرات کے تناظر میں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام یقینی بنانے کیلئے بات چیت اور سفارت کاری ہی قابلِ عمل راستہ ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسحاق ڈار نے اسی روز ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتو سری محمد حسن سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ملائیشیا کے دوطرفہ تعلقات، تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا گیا اور نیویارک میں ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا۔