تازہ ترین

ایران جنگ کا بڑھتا مالی بوجھ، امریکی ایوان میں جنگ ختم کرنے کی تیسری قرارداد منظور

0

اسلام آباد: ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ نہ صرف واشنگٹن کے لیے بڑھتا ہوا مالی بوجھ بن گئی ہے بلکہ امریکی دفاعی ذخائر پر بھی دباؤ نمایاں ہوگیا ہے، جبکہ امریکی ایوان نمائندگان نے جنگ ختم کرنے کے لیے تیسری مرتبہ جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور کرلی ہے۔

ایوان نمائندگان میں قرارداد 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور ہوئی، جس میں ڈیموکریٹس کے ساتھ 7 ریپبلکن ارکان نے بھی حمایت کی۔ تاہم قرارداد کو قانون بننے کے لیے سینیٹ کی منظوری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط درکار ہوں گے۔

کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق اگست 2026 تک ایران جنگ پر امریکا کے کم از کم 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور جنگ جاری رہنے کی صورت میں اخراجات میں ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف کارروائیوں میں پیٹریاٹ، تھاڈ اور بحری انٹرسیپٹر میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال ہوئی، جس سے امریکی دفاعی ذخائر دباؤ کا شکار ہیں۔ موجودہ پیداوار کی رفتار کے ساتھ بعض ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں کم از کم 5 سال لگ سکتے ہیں۔

امریکی بجٹ حکام نے خبردار کیا ہے کہ دفاعی ذخائر میں کمی مستقبل میں دیگر ممکنہ تنازعات، بالخصوص چین اور تائیوان سے متعلق کسی بحران، میں امریکی فوجی تیاریوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں امریکی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے نے امریکی معیشت پر بھی اثر ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2027 کے آغاز تک مہنگائی متوقع سطح سے تقریباً 0.5 فیصد پوائنٹ زیادہ رہ سکتی ہے۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق جون کے وسط تک جنگ سے متعلق مجموعی اخراجات 33.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ جنگی سازوسامان کی خریداری پر 22.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.