تازہ ترین

یمن بحران` سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: عاصم افتخار

0

نیویارک: یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے معاملے پر پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی اثاثوں کے دفاع کا جائز حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یمن میں پائیدار سیاسی حل کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن کی صورتحال ایک انتہائی تشویشناک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، اس لیے مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں جاری تنازع کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور اقتصادی صورتحال پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی بھی حمایت کی۔

پاکستانی مندوب نے باب المندب کے اطراف حوثی سرگرمیوں میں اضافے کو بھی تشویشناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیاں آزادانہ بحری نقل و حرکت اور عالمی تجارت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اہم بحری گزرگاہوں کو تنازع کا حصہ بنانا عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے دور رس نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بھی باب المندب کے اطراف صورتحال حالیہ دنوں میں مزید کشیدہ ہوئی ہے، جبکہ خطے میں بحری نقل و حرکت اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یمن میں 2022 سے قائم نسبتاً پُرسکون ماحول بدقسمتی سے ختم ہوچکا ہے اور مختلف محاذوں پر دوبارہ لڑائی میں اضافے سے وسیع پیمانے پر جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے یمن میں پیدا ہونے والی انسانی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جاری کشیدگی کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں کے بے گھر ہونے اور انسانی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اسلام آباد یمن میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، یمن کی قیادت اور یمن کی ملکیت میں سیاسی عمل کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی بحران کا پائیدار حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے تمام فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیے کی طرف واپس آنا ہوگا، کیونکہ جامع سیاسی حل ہی یمن میں دیرپا امن، استحکام اور خطے میں وسیع تر سلامتی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.