تازہ ترین

سعودی عرب کا مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون ناکام بنانے کا دعویٰ

0

مکہ مکرمہ کے قریب ایک ڈرون حملے کی کوشش سعودی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بناتے ہوئے ڈرون کو مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔ سعودی قیادت میں یمن میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو 15 ستمبر کی شام جنوبی مکہ مکرمہ میں روکا گیا، جبکہ اس کا ملبہ شہر کے جنوب میں گرا۔

ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 50 منٹ پر سعودی فضائی دفاع نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود کے قریب پہنچا تھا۔ انہوں نے اس واقعے کو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیتے ہوئے 27 جولائی 2017 کے اس واقعے کا حوالہ دیا جب حوثیوں کی جانب سے مقدس شہر کی طرف بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

سعودی اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ مسجد الحرام، مقدس مقامات اور حجاج کی سلامتی سرخ لکیر ہے اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ کارروائی عبادت گزاروں، حجاج، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے تناظر میں کی گئی۔

واقعے سے ایک روز قبل سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت مختلف علاقوں میں فضائی خطرے کے حوالے سے ہنگامی الرٹس جاری کیے تھے، تاہم بعد میں مکہ مکرمہ میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا گیا۔ اسی دوران سعودی اتحاد نے بتایا تھا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ 7 گھروں اور 2 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب حوثی ترجمان نے سعودی عرب کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

یمن میں حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان جولائی کے آغاز سے دوبارہ جھڑپوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔ یمن میں تنازع 2014 میں اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضہ کیا، جس کے بعد 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.