تازہ ترین

انصاف مارچ پُرامن ہوگا، اللہ نہ کرے کوئی گولی چلے: بیرسٹر گوہر

0

اسلام آباد: پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اعلان کردہ انصاف مارچ کو پُرامن رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل طاقت کے بجائے سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقاتیں نہ ہونا تشویش کا باعث ہے جبکہ عوام اب اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلیں گے۔

اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالتوں کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق 70 فیصد عوام عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ دہشتگردوں جیسا سلوک جمہوری سوچ کی عکاسی نہیں کرتا اور عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنا ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ پُرامن رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور انصاف مارچ بھی پُرامن ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کیلئے پی ٹی آئی کے ساتھ باہر نکلیں، کیونکہ ان کے بقول عمران خان کو عدالتوں اور پارلیمنٹ سے انصاف نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ آج بھی صرف انصاف ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ ہونے پر سب سے زیادہ تشویش ہے، مختلف افراد ملاقات کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن خان صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انصاف مارچ کو آگے بڑھایا جائے گا اور تمام سیاسی معاملات کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے مارچ کے دوران کوئی گولی چلے، کارکنوں کو ہدایت ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشتگردوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو مارچ کا اعلان کیا ہے، لیکن ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جارہی۔

انہوں نے پنجاب میں کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق ملک پہلے ہی معاشی، سیاسی اور امن و امان کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے جبکہ اقتصادی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک آئین اور رول آف لا کے ذریعے بچ سکتا ہے، طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول وفاق اور ملکی سالمیت کو خطرات لاحق ہیں اور 27 ستمبر کو عوام کیلئے باہر نکلا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان غیر مؤثر ہوچکی ہے اور ملکی مسائل کے حل کیلئے احتجاج کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے خلاف فیصلوں سے جمہوریت کو فائدہ نہیں پہنچتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.