تازہ ترین

خلیجی ممالک میں پاکستانی انڈوں کی برآمد پر پابندی کا انکشاف

0

اسلام آباد: پاکستانی پولٹری مصنوعات کی خلیجی منڈیوں میں برآمد کو درپیش رکاوٹیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کے اجلاس میں زیر بحث آگئیں، جہاں پولٹری صنعت نے انکشاف کیا کہ قطر، کویت اور عمان سمیت بعض خلیجی ممالک کی منفی فہرست میں پاکستانی انڈے شامل ہونے کے باعث برآمدات متاثر ہورہی ہیں۔

سیکریٹری قومی غذائی تحفظ کے مطابق لائیو اسٹاک کا مجموعی ملکی پیداوار میں حصہ 15 فیصد جبکہ زراعت میں اس کا حصہ 62 فیصد ہے۔ پاکستان سے گوشت کی برآمد کے لیے 29 ہزار فعال اور منظور شدہ ادارے موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گوشت کی برآمد کے لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں 17 جبکہ ایران میں 10 ادارے منظور شدہ ہیں۔ قطر اور عمان سمیت دیگر ممالک میں گوشت کی برآمد کے لیے منظوری کا عمل جاری ہے۔

عامر علی احمد کے مطابق مویشیوں میں پھیلنے والی منہ کھر کی بیماری لائیو اسٹاک کی برآمدی صلاحیت استعمال کرنے میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بیماری پر قابو پانے کے لیے عالمی معیار کے مطابق اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے گوشت برآمد کرنے کی صورت میں قیمت اور مسابقت متاثر ہوتی ہے جبکہ منہ کھر کی بیماری کے باعث گوشت ہڈی کے بغیر برآمد کرنا پڑتا ہے، جس سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

سیکریٹری نے بتایا کہ منہ کھر کی بیماری کے تدارک کے لیے 2025 میں منصوبہ منظور کیا گیا تھا اور اس پر کام شروع ہوچکا ہے۔ منصوبے کے حوالے سے صوبوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت بھی جاری ہے۔

اجلاس میں پولٹری صنعت کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور ٹیکسوں کے باعث مرغی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

پولٹری صنعت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں پاکستانی پولٹری مصنوعات پر بھارت کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد ہے، جبکہ قطر، کویت اور عمان میں پاکستانی انڈے منفی فہرست میں شامل ہیں۔

نمائندوں نے کہا کہ حکومتی تعاون سے پولٹری مصنوعات کی برآمد میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان سے اس وقت تقریباً 100 کنٹینر انڈے برآمد کیے جاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.