آبنائے ہرمز میں سعودی تیل بردار 2 ٹینکروں پر حملہ
آبنائے ہرمز: سعودی خام تیل لے جانے والے دو سپر ٹینکرز آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے نامعلوم پروجیکٹائل کے حملوں کا نشانہ بن گئے، دونوں واقعات چند منٹ کے وقفے سے پیش آئے۔
شپنگ انٹیلی جنس اور ٹریکنگ کمپنیوں میریسکس اور کپلر کے مطابق دونوں ٹینکرز سعودی عرب کے جویما ٹرمینل سے خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کررہے تھے۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں جہازوں پر سعودی خام تیل کے 20،20 لاکھ بیرل لدا ہوا تھا، جو گزشتہ ہفتے جویما ٹرمینل سے لوڈ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بنے۔ حملہ کس نے کیا اور کس نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے گئے، اس بارے میں فوری طور پر معلومات سامنے نہیں آسکیں۔
حملوں کے نتیجے میں جہازوں کو پہنچنے والے نقصان یا کسی جانی نقصان کی بھی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
شپنگ انٹیلی جنس فرم میریسکس نے ان واقعات کو عمانی کوریڈور کے اطراف سیکیورٹی صورتحال میں مزید کشیدگی قرار دیا اور بتایا کہ دونوں واقعات تقریباً ایک ہی وقت میں پیش آئے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل مختلف عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
سعودی آرامکو نے اگست میں آبنائے ہرمز کے اندر سے تیل کی لوڈنگ اور فروخت دوبارہ شروع کی تھی، جس کے بعد اس اہم آبی راستے سے تیل کی ترسیل جاری رہی۔
تازہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر خدشات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ شپنگ کمپنیاں علاقے میں جہازوں کی نقل و حرکت اور سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔