کوئٹہ میں منعقدہ گرینڈ پشتون قومی جرگے میں جنوبی پشتونخوا اور پشتون آبادی والے علاقوں کو درپیش سیاسی، معاشی، سماجی اور امن و امان کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جرگے میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین، سیاسی کارکنوں، مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں اور دیگر شرکا نے اپنی آرا پیش کرتے ہوئے موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جرگے میں سب سے اہم موضوع جنوبی پشتونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ رہا۔ شرکا نے کہا کہ مسلسل بدامنی نے عام شہریوں، کاروباری افراد، مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، اس لیے امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ مقررین نے دہشت گردی اور مسلح گروہوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایسے حالات پیدا کرنے پر زور دیا جن میں عوام بلا خوف اپنی معمول کی زندگی اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
جرگے میں پشتون علاقوں کے سیاسی اور آئینی حقوق بھی زیر بحث آئے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں جمہوری نظام، پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے جبکہ تمام قومیتوں کو برابر کے سیاسی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اس حوالے سے پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی سمیت تمام قومیتوں کے درمیان برابری اور باہمی احترام پر مبنی وفاقی نظام کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔
قدرتی وسائل اور زمینوں کا معاملہ بھی جرگے کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔ مقررین نے کہا کہ پشتون علاقوں میں موجود معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مقامی آبادی کو ان کا جائز حصہ ملنا چاہیے۔ جرگے میں غیر مقامی افراد کو پشتون علاقوں میں زمینوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ مقامی آبادی کے حقوق اور زمینوں کے تحفظ کو نظر انداز کرکے کسی منصوبے یا پالیسی کو آگے نہیں بڑھایا جانا چاہیے۔
شرکا نے معاشی مشکلات، بے روزگاری، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹوں اور بنیادی سہولیات کی کمی پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل سے مالا مال علاقوں کے عوام کو غربت، بے روزگاری اور محرومی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار، تعلیم اور ترقی کے مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں۔
جرگے میں بلوچستان کے بلوچ اور پشتون عوام کے درمیان باہمی احترام، برابری اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ پر بھی زور دیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبے کے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور تمام قومیتوں کے درمیان اعتماد اور سیاسی شراکت داری کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
افغانستان کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پشتون علاقوں کو کسی بھی جنگ، پراکسی تنازع یا علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
جرگے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، قومی رہنماؤں اور معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنے باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ شرکا کے مطابق جرگے کا مقصد کسی ایک جماعت یا گروہ کے مفادات تک محدود نہیں بلکہ پشتون علاقوں کو درپیش اجتماعی مسائل پر مشاورت کرکے مستقبل کے لیے ایک متفقہ اور پرامن لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔
جرگے کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاسی، آئینی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق کے تحفظ، امن و امان کی بحالی، معاشی ترقی اور مقامی وسائل پر جائز حق کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ جرگے کے اختتام پر مختلف تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم نکات سامنے آنے کی توقع ہے۔