تازہ ترین

عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی بڑی واپسی، ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کا عمل شروع

0

پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ اپنی رسائی مضبوط بنانے کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے امریکی ڈالر میں بینچ مارک ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کے اجرا کا عمل شروع کردیا ہے۔ مجوزہ بانڈ میں پانچ سال اور دس سال کی مدت پر مشتمل دو الگ ٹرانچز شامل ہوں گی، جبکہ حتمی شرائط اور اجرا کا فیصلہ مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے منگل کو اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے امریکی ڈالر پر مبنی بینچ مارک ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کی پیشکش کے لیے عمل شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی عالمی سرمایہ مارکیٹ میں دوبارہ مضبوط اور پائیدار موجودگی قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق مجوزہ یورو بانڈ پانچ سال اور دس سال کی طویل مدتی مدت کے لیے ہوگا۔ ڈوئل ٹرانچ کا مطلب ہے کہ بانڈ کو دو الگ حصوں میں پیش کیا جائے گا، جس سے مختلف مدت کے قرضی آلات میں سرمایہ کاری کرنے والے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے بانڈ میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس لین دین کے پس منظر میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مسلسل بہتری، معاشی بنیادوں میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ شامل ہے۔ ان عوامل کو پاکستان کی عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک عالمی سرمایہ مارکیٹ میں اپنی موجودگی دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اپریل 2026 میں پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپیٹل مارکیٹ میں واپسی کرتے ہوئے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت 500 ملین ڈالر کا تین سالہ یورو بانڈ کامیابی سے جاری کیا تھا۔ اس اجرا میں سرمایہ کاروں کی جانب سے مضبوط دلچسپی سامنے آئی تھی، جسے پاکستان کے معاشی منظرنامے پر بڑھتے اعتماد کی علامت قرار دیا گیا۔

نئے پانچ اور دس سالہ یورو بانڈ کا عمل پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستانی قرضی سیکیورٹیز میں طویل مدتی دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ دو مختلف مدتوں کی ٹرانچز کے ذریعے حکومت عالمی قرض مارکیٹ میں مختلف سرمایہ کار طبقات تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

حتمی بانڈ کا حجم، قیمت، شرح منافع اور اجرا کا وقت ابھی طے ہونا باقی ہے اور یہ تمام معاملات عالمی مالیاتی منڈیوں کی صورتحال، سرمایہ کاروں کی طلب، امریکی ٹریژری ییلڈز اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے قرضوں کے بارے میں عالمی سرمایہ کاروں کے رجحان سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ موجودہ مرحلے پر اس لیے کسی حتمی رقم یا شرح کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈی میں واپسی کو معاشی استحکام کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ مسلسل کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈز اور میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کی مالیاتی صورتحال کو نسبتاً بہتر بنایا ہے۔

حکومت کی جانب سے جولائی 2026 میں گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور انٹرنیشنل سکوک پروگرام کے لیے بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیم بھی منتخب کیے گئے تھے، جس سے عالمی قرض مارکیٹ میں دوبارہ منظم انداز میں سرگرمی بڑھانے کی حکمت عملی واضح ہوتی ہے۔

خرم شہزاد نے اس پیش رفت کو استحکام، اعتماد اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کے تسلسل سے تعبیر کیا ہے۔ نئے یورو بانڈ کی کامیاب تکمیل پاکستان کو مستقبل میں بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹ سے فنڈنگ کے مزید مواقع فراہم کرسکتی ہے اور بیرونی مالی ضروریات کے لیے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.