تازہ ترین

ترکیہ کا ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ کا اعلان، خطے میں نئی سکیورٹی شراکت داری کا آغاز

0

استنبول: ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم دفاعی اتحاد کو باضابطہ طور پر ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے، جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اتحاد کے قیام سے خطے میں نئی سکیورٹی اور تعاون کی ساخت آزمانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

ہاکان فیدان نے استنبول کے چراغان پیلس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک نے اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر اتفاق کرلیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ پہلے سیکریٹری جنرل کے طور پر پاکستانی عہدیدار کی تعیناتی متوقع ہے۔

اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان شامل ہیں۔ اجلاس میں ترکیہ کی نمائندگی ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچک بائرکتار اوغلو نے کی۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک ہوئے، جبکہ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے کی۔

ہاکان فیدان کے مطابق اجلاس میں اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے درکار اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کے مستقبل کے ڈھانچے سے متعلق ابتدائی فیصلے کیے گئے۔

مکہ دفاعی اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کو وسعت دینے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے اور نئے ممالک کی شمولیت کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک اتحاد میں شامل ہونا چاہے گا، اسے موجودہ رکن ممالک کے ساتھ شمولیت کی شرائط، طریقہ کار اور مطلوبہ معیارات پر بات چیت کرنا ہوگی۔

ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت کے اصولوں پر قائم ہے۔ ان کے مطابق اتحاد کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بنایا گیا اور ان اصولوں کو تسلیم کرنے والے دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی اس کے دروازے کھلے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد ترکیہ کی نیٹو اور دیگر معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں کی جگہ نہیں لے گا بلکہ ان کے ساتھ تکمیلی کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کے نتیجے میں خطے میں بتدریج استحکام بڑھے گا اور غیر یقینی صورتحال میں کمی آئے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم پر ہاکان فیدان کی تنقید

اسرائیلی حکومت کی جانب سے ترکیہ کو اسٹریٹجک خطرہ قرار دینے سے متعلق سوال پر ہاکان فیدان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہاکان فیدان نے کہا کہ نیتن یاہو انسانیت، عالمی برادری اور سکیورٹی کے لیے مشترکہ خطرہ بن چکے ہیں اور انہیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو اور ان کے ساتھ کام کرنے والے عناصر صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی نظام کو ’’نیتن یاہو کے خطرے‘‘ کے خلاف اقدامات کرنے چاہئیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.