تازہ ترین

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ `قیدیوں کی نجی اسپتال اور بیرون ملک رابطے کی درخواستیں مسترد

0

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی نجی اسپتالوں میں علاج اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں سے رابطے کی اجازت سے متعلق درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قید کسی شخص کو اپنی پسند کی ہر سہولت حاصل کرنے کا قانونی حق نہیں دیتی۔

جسٹس محمد آصف نے تینوں درخواستوں پر الگ الگ تحریری فیصلے جاری کیے۔ عدالت نے 27 اگست کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

قیدی اویس الطاف اور محمد الیاس خان نے نجی اسپتالوں میں علاج کی اجازت طلب کی تھی، جبکہ محمد اسماعیل حسین نے بیرون ملک مقیم اپنے بھائی سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی اجازت مانگی تھی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں مطلوبہ طبی سہولیات دستیاب نہیں۔ وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ایک قیدی خون بہنے کی سنگین بیماری میں مبتلا ہے جبکہ بڑی آنت میں اندرونی خون بہنے کی شکایت بھی ہے، جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ قید کا بنیادی مطلب قانون کے مطابق کسی شخص کی آزادی پر پابندی ہے اور ہر تکنیکی سہولت کو بنیادی حق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق کسی قیدی کو اپنی پسند کے نجی اسپتال منتقل کیے جانے کا قانونی حق حاصل نہیں۔

عدالت نے کہا کہ قیدیوں کے علاج کی بنیادی ذمہ داری ریاستی انتظامیہ اور سرکاری اسپتالوں پر عائد ہوتی ہے۔ جیل قواعد کے تحت ضرورت پڑنے پر قیدی کو جیل سے باہر کسی اسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ اگر سرکاری اسپتال میں کسی قیدی کا مناسب علاج ممکن نہ ہو تو طبی بورڈ کی سفارش پر اسے نجی طبی مرکز منتقل کرنے کے معاملے پر متعلقہ حکام غور کرسکتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کا بھی جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہائیکورٹس پر لازم ہیں، تاہم 18 اگست کا حکم عبوری نوعیت کا تھا اور معاملہ تاحال سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ عبوری حکم کو حتمی فیصلہ تصور نہیں کیا جاسکتا اور اس کی بنیاد پر ہر قیدی کو اپنی پسند کے نجی اسپتال میں علاج کا عمومی قانونی حق حاصل نہیں ہوجاتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کو قانون کے مطابق تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں۔

دوسری جانب بیرون ملک مقیم رشتہ دار سے رابطے کی درخواست کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ اگر واٹس ایپ، ویڈیو کال یا رابطے کا کوئی اور قانونی ذریعہ دستیاب ہو تو مجاز حکام جیل نظم و ضبط، سیکیورٹی تقاضوں اور جیل قواعد 1978 کے مطابق ایسی درخواستوں پر غور کرسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر ظفر اللہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکام قانون اور جیل قواعد کے مطابق کارروائی کریں گے۔ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک اور جیل حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.