پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ دفاعی تعاون بڑھانے پر متفق
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، جس میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر اہم غور کیا گیا۔
ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں عالمی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی بڑھانے اور دفاعی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار، تحقیق و ترقی اور جدید دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ تھے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدہ دفاع کے اصول پر مبنی ایک تاریخی اقدام ہے، جبکہ اجلاس کا مقصد علاقائی استحکام اور امن کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام علاقائی ممالک کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اجلاس میں اتحاد کے عملی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب بھی پیش رفت ہوئی، جبکہ معاہدے کو باضابطہ طور پر ’’مکہ معاہدہ‘‘ کا نام دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق مکہ معاہدہ نیٹو کی تکمیل کرتا ہے اور دیگر ممالک بھی طے شدہ شرائط کے تحت اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی شمولیت کے لیے روڈ میپ پر کام جاری ہے۔
ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں، بلکہ تینوں ممالک نے اتحاد کا ڈھانچہ قائم کرنا شروع کردیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ اتحاد عالمی قوانین کے عین مطابق ہے۔