کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم سے متعلق جاری بحث پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے فیصلہ لاہور کے کاروباری افراد یا ٹی وی اور جلسوں میں نہیں بلکہ سندھ اسمبلی کے اراکین کریں گے۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو سندھ کی تقسیم کے لیے قرارداد ایوان میں لائے اور اسے پیش کرکے دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان میں سے ایک بھی رکن زندہ ہے، سندھ تقسیم نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے کی تقسیم کے معاملے پر سندھ اسمبلی میں بحث ہوگی اور اگر ضرورت پڑی تو قرارداد دوبارہ منظور کی جائے گی۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کا فیصلہ ٹی وی پروگرام یا کسی جلسے میں نہیں کیا جا سکتا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی واضح کرچکے ہیں کہ پارٹی وہی کرے گی جو عوام چاہیں گے، اس لیے معاملے پر اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ گزشتہ اجلاس میں بعض ارکان نے سندھ کی تقسیم کے حق میں بات کی تھی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سندھ ہمیشہ ایک رہے گا۔
مراد علی شاہ کے مطابق سندھ اسمبلی ماضی میں بھی صوبے کی تقسیم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے، جو 1948، 2000، 2014، 2019 اور 2026 میں منظور کی گئیں۔
اس سے قبل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) کے رہنما مصطفیٰ کمال کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ان پر نفرت، تقسیم اور لسانی اختلافات کی سیاست دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ مصطفیٰ کمال بھی نفرت پھیلانا چاہتے ہیں اور لندن میں مقیم رہنما کے جانشین بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم کی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو عوام پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔
ایک روز قبل مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پاکستان میں آباد ہونے والی مہاجر نسل کی آئندہ نسل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ نئے انتظامی یونٹس کے مخالف ہیں، وہ دراصل پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بھی مخالف ہیں۔
شرجیل میمن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہری اور دیہی آبادی کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں ماضی میں بھی ناکام ہوئی ہیں اور آئندہ بھی عوام انہیں مسترد کردیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ نفرت کی دیواریں ختم کرکے امن، ترقی اور بھائی چارے کے فروغ کی کوشش کرتی رہی ہے، جبکہ مخالفین نے اپنی سیاست کو تقسیم کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
شرجیل میمن نے کراچی کو سندھ کا دل اور پاکستان کی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ماضی میں دہشت گردی کے ذریعے شہر کا تشخص متاثر کیا، وہ اب وفاقی حکومت کے کہنے پر نئے انتظامی یونٹس کی بات کر رہے ہیں۔
یہ بحث اس وقت شدت اختیار کرگئی جب جولائی کے آخر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے فرسودہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے مزید انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی تجویز دی۔ اس کے بعد سندھ کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے صوبے کے قیام کے معاملے پر خونریزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ آئین میں صوبہ بنانے کا طریقہ موجود ہے اور صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرے تو صوبے کی تقسیم ممکن ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے قومی سطح پر گرینڈ ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا مؤقف ہے کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کے خلاف نہیں بلکہ سندھ کے عوام کو اپنے معاملات پر زیادہ سیاسی اختیار دینے کے لیے ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے بھی نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقا، ترقی اور استحکام کے لیے مزید انتظامی یونٹس ضروری ہیں۔
تاہم سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے کو سیاسی مایوسی اور تنہائی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے بھی نئے صوبے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اور سیاسی جماعتیں صوبے میں نئے صوبے کے قیام کے خلاف متحد ہیں۔