تازہ ترین

سرکاری اسپتال اچھے ہیں تو حکمران اپنے بچوں کو وہاں کیوں نہیں بھیجتے؟

0

اسلام آباد: پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک سانحے نے ایک بار پھر سرکاری صحت کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں، سابق قومی کپتان شاہد آفریدی نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معیار سے متعلق اہم سوال سامنے رکھ دیا۔

شاہد آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں سوال کیا کہ اگر سرکاری اسپتال اور تعلیمی ادارے واقعی اتنے ہی اچھے ہیں تو اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنے بچوں کو وہاں کیوں نہیں بھیجتے؟

انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے میں 14 معصوم بچے جان سے چلے گئے، انکوائری رپورٹ سامنے آچکی ہے، متعلقہ افسران معطل کیے جاچکے ہیں اور فوجداری کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کارروائی ان معصوم جانوں کو واپس نہیں لاسکتی۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے ہر شہری کو صحت اور تعلیم کی یکساں معیار کی سہولت ملنی چاہیے اور سرکاری اداروں میں بھی وہی معیار یقینی بنایا جائے جس کی توقع معاشرے کے ہر فرد کے لیے کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق ہوگئے تھے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے 8 افسران کو معطل کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.