راولپنڈی میں جماعت اسلامی اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان جلسے کے انعقاد پر پیدا ہونے والا تنازع مذاکرات کے ذریعے ختم ہوگیا، جس کے بعد تاریخی لیاقت باغ میں جماعت اسلامی کو عوامی اجتماع منعقد کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان جلسے کے انتظامات سے متعلق معاملات پر ہونے والی بات چیت کامیاب رہی، جس کے بعد فریقین کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا۔ اجازت ملنے کے فوری بعد لیاقت باغ کے دروازے کھول دیے گئے اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جلسے کی تیاریوں کا آغاز کردیا۔
انتظامیہ کی جانب سے لیاقت باغ کا کنٹرول جماعت اسلامی کے کارکنوں کے حوالے کیے جانے کے بعد جلسہ گاہ میں انتظامات تیزی سے جاری ہیں۔ پنڈال میں کرسیاں لگانے کے ساتھ ساؤنڈ سسٹم، لائٹنگ اور دیگر ضروری سامان بھی پہنچا دیا گیا ہے، جبکہ جلسے کے مقام کو تیار کرنے کا کام جاری ہے۔
اس سے قبل ضلعی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو لیاقت باغ میں عوامی اجتماع کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا، جس پر جماعت اسلامی کی قیادت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ اجازت نہ ملنے کی صورت میں جماعت اسلامی نے متبادل حکمت عملی کے طور پر مصروف ترین مری روڈ پر دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم مذاکرات کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی اور انتظامیہ نے جلسے کی اجازت دے دی۔ معاہدہ طے پانے کے بعد جماعت اسلامی نے بھی اپنا احتجاجی منصوبہ مؤخر کرتے ہوئے لیاقت باغ میں جلسے کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کردی ہے۔
لیاقت باغ میں انتظامات مکمل کرنے کے لیے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور جلسہ گاہ میں مختلف مراحل پر کام تیزی سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ انتظامیہ اور جماعت اسلامی کے درمیان معاملات طے ہونے کے بعد جلسے کے انعقاد سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال بھی ختم ہوگئی ہے۔