مانچسٹر سمیت 3 برطانوی ایئرپورٹس پر سائبر حملہ، ہیکرز کا تاوان کا مطالبہ
لندن- برطانیہ کے تین بڑے ایئرپورٹس مانچسٹر، اسٹینسٹڈ اور ایسٹ مڈلینڈز ایک بڑے سائبر حملے کی زد میں آگئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 87 لاکھ صارفین کا ذاتی ڈیٹا متاثر ہوا جبکہ حملہ آوروں نے چوری شدہ معلومات واپس کرنے کے عوض تاوان بھی طلب کرلیا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق سائبر حملے میں مسافروں اور ایئرپورٹس کی مختلف آن لائن سہولیات سے متعلق معلومات متاثر ہوئی ہیں۔ ہیک ہونے والے ڈیٹا میں صارفین کے ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز اور پوسٹ کوڈز شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایئرپورٹس کی کار پارکنگ، لاؤنج اور فاسٹ ٹریک سروسز سے متعلق بکنگ کی معلومات بھی سائبر حملے سے متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس کے وائی فائی سے منسلک صارفین کا ڈیٹا بھی ہیکرز تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
مانچسٹر ایئرپورٹس گروپ کے مطابق ہیکرز نے ہفتے کے اختتام پر صارفین کی رابطے کی معلومات، گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز اور پوسٹ کوڈز حاصل کیے۔ گروپ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ سائبر حملہ آوروں نے ڈیٹا واپس کرنے کے عوض تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم کمپنی نے ہیکرز کو رقم دینے سے انکار کردیا۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ حملہ آوروں نے کتنی رقم بطور تاوان طلب کی تھی۔
ایئرپورٹس گروپ کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 8.7 ملین یعنی 87 لاکھ صارفین کا ڈیٹا متاثر ہوا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثرہ معلومات میں زیادہ تر ای میل ایڈریسز شامل ہیں، جو ایئرپورٹس کے ٹرمینلز میں وائی فائی سائن اپس کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ سائبر حملے سے مسافروں کی حفاظت یا ایئرپورٹس کی ایوی ایشن سکیورٹی متاثر نہیں ہوئی۔ متاثرہ نظام میں صارفین کی بینک، کریڈٹ کارڈ یا دیگر ادائیگی سے متعلق معلومات بھی موجود نہیں تھیں۔
مانچسٹر ایئرپورٹس گروپ کے مطابق اسے منگل کے روز سائبر حملے کا علم ہوا۔ اطلاع ملنے کے بعد ہیکرز کی مزید رسائی فوری طور پر روک دی گئی اور متاثرہ صارفین کو بھی واقعے سے آگاہ کیا گیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ خطرے کو محدود کردیا گیا ہے اور سائبر سکیورٹی ماہرین کی مدد سے مزید حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ واقعے کی اطلاع متعلقہ حکام کو بھی دے دی گئی ہے۔
ایئرپورٹس گروپ نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ڈیٹا کی سکیورٹی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ کمپنی نے سائبر حملے کے باعث پیدا ہونے والی ممکنہ پریشانی اور تشویش پر صارفین سے معذرت بھی کی ہے۔
یہ واقعہ برطانیہ میں اہم عوامی اور سفری انفراسٹرکچر کو درپیش بڑھتے ہوئے سائبر سکیورٹی خطرات کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے۔ لاکھوں مسافروں کی معلومات ایک ہی سائبر حملے میں متاثر ہونے کے باعث ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور ایئرپورٹس کے ڈیجیٹل نظام کی سکیورٹی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔