تازہ ترین

مکہ دفاعی معاہدہ کسی ریاست کے خلاف نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

0

بشکیک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ریاست کے خلاف محاذ آرائی کے لیے نہیں بلکہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور خطے میں امن کے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔

وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے اور پاکستان تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کے اصولوں پر عمل پیرا رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی ریاست کے خلاف محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا نہیں۔ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی رہا ہے اور عالمی و علاقائی مسائل کے حل کے لیے تعاون کو ضروری سمجھتا ہے۔

وزیراعظم نے عالمی منظرنامے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، عالمی معاشی انتشار، موسمیاتی بحران اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پیچیدہ ماحول میں ایس سی او امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اجتماعی کوششوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔

شہباز شریف نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کو حق خود ارادیت کے حصول میں مدد فراہم کی جائے۔

پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے بین الاقوامی وعدے ہیں جن کی روح اور متن کے مطابق مکمل پاسداری ہونی چاہیے اور پانی کو سیاسی دباؤ یا مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دہشت گردی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ اڑھائی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کرچکا ہے۔

وزیراعظم نے پُرامن اور مستحکم افغانستان کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے علاقائی روابط، سی پیک، توانائی راہداریوں اور بین العلاقائی رابطوں کی اہمیت بھی اجاگر کی اور ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عمل درآمد، ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز پیش کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آئندہ ایس سی او چیئرمین شپ کا مرکزی موضوع ’’وژن کو عمل میں بدلنا: روابط، جدت طرازی اور مشترکہ خوشحالی‘‘ ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.