معصوم بچیوں پر ظلم کی لرزہ خیز داستان، سعدیہ امام آبدیدہ ہوگئیں
شوبز اداکارہ سعدیہ امام معصوم بچیوں پر تشدد اور ظلم کے لرزہ خیز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہوگئیں۔ ایک رپورٹ میں کمسن بچی کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹنے کی تفصیل سامنے آنے پر سعدیہ امام نے شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات محض خبریں نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک بڑا سوال ہیں۔
سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ گجرات کی چار سالہ بچی، بھکر کی معذور بچی اور چکوال میں کمسن بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو معصوم بچوں پر اس قدر ظلم کرنے کے باوجود خود کو قانون کی گرفت سے محفوظ سمجھتے ہیں۔
اداکارہ نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بھی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ عام شہریوں کو بنیادی سہولیات اور تحفظ کی فراہمی میں ناکامی کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقتور اور بااثر افراد کے لیے قانون کا معیار مختلف دکھائی دیتا ہے، جبکہ عام آدمی انصاف کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔
سعدیہ امام نے مختلف افسوسناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ اب تک کتنے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو ایسی سزائیں دی گئیں جو دوسروں کے لیے عبرت بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجرم کو یہ یقین ہو کہ اثر و رسوخ یا دولت کے ذریعے قانون سے بچنے کا راستہ نکل سکتا ہے تو معاشرے میں جرائم کا سلسلہ کیسے روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وی آئی پی کلچر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں، جبکہ بااثر افراد کے لیے سہولتیں فوری دستیاب ہوجاتی ہیں۔ سعدیہ امام نے متاثرہ بچیوں کے والدین کے دکھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماں کے لیے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ منظر کیا ہوگا کہ وہ اپنی بچی کو زخمی حالت میں دیکھے۔
سعدیہ امام نے اپیل کی کہ معصوم بچوں کے خلاف تشدد اور ظلم کے واقعات پر معاشرے کو خاموش نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ آج اگر کسی دوسرے کے ساتھ ہونے والے ظلم کو نظر انداز کیا گیا تو کل یہی صورتحال کسی بھی گھر کو متاثر کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔