کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر ٹارگٹڈ کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں، دالبندین میں ایک حالیہ کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ ریاست مخالف عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اپنی رٹ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر اور مربوط کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور صوبے کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے تاہم کہا کہ ریاست کے دروازے ان افراد کے لیے آج بھی کھلے ہیں جو تشدد کا راستہ ترک کرکے ہتھیار ڈالنے اور آئین پاکستان کے تحت پُرامن زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں۔ ایسے افراد قومی دھارے میں واپس آکر ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور حکومت عوام کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
⚡ بجلی کی فراہمی اور عوامی مسائل پر بھی اجلاس
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پیر کے روز کوئٹہ میں کیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شوکت خان جوگیزئی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران صوبے میں بجلی کی فراہمی، عوامی مشکلات اور کیسکو سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بجلی سے متعلق عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری لانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کریں۔
🤝 ترقیاتی امور اور عوامی مسائل پر ملاقاتیں
میر سرفراز بگٹی سے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی، میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ، علی جان بگٹی، قبائلی رہنماؤں میر شفقت مری اور مقبول مری، سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی اظہر شہزاد، ایڈووکیٹ منیر کاکڑ، نجیب کاکڑ اور ملک غفار خان ناصر نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں صوبے کی مجموعی صورتحال، عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، انتظامی معاملات، اعلیٰ تعلیم اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل اور بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔ حکومت کی ترجیح بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور گورننس کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین، ماہرین تعلیم اور معاشرے کے مختلف طبقات کی تجاویز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بہتری کے لیے مربوط اقدامات جاری ہیں جبکہ صوبے کے دور دراز علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنا حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
🕊️ رکن اسمبلی کے والد کے انتقال پر تعزیت
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے رکن صوبائی اسمبلی میر غلام دستگیر بادینی کے والد حاجی میر جمعہ خان بادینی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے سوگوار خاندان، بالخصوص میر غلام دستگیر بادینی سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔
وزیراعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔