اسلام آباد: 27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے سیاسی کشیدگی کے درمیان وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت، وفاق کی علامت اور ریاستی مرکز ہے، اس لیے کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے دارالحکومت میں امن و امان متاثر ہو۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے اسلام آباد کو سومنات بنانے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نہ اسلام آباد سومنات ہے اور نہ ہی جنید اکبر محمود غزنوی ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مخالفین کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اقتدار کے حصول کے لیے کس حد تک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں جاری بدامنی اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی قیادت سے سوالات بھی کیے۔
خواجہ آصف نے مزید سوال اٹھایا کہ 27 ستمبر کے حوالے سے جس حملے کی بات کی جارہی ہے، آیا وہ طالبان کی جانب سے ہوگا اور کیا پاکستان میں مقیم افغان اس میں شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کے دفاع کے لیے اپنی پوری صلاحیت استعمال کرے گی۔
وزیر دفاع نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول ماضی میں بھی احتجاج کے دوران ایسے واقعات سامنے آئے، جبکہ اب 27 ستمبر کے حوالے سے بھی سخت بیانات دیے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی پاکستانی کو ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے جو ان کے بقول ملک مخالف تاثر پیدا کرے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر اس بار جانی نقصان ہوا تو کارکن خاموشی سے واپس نہیں جائیں گے اور انہوں نے اسلام آباد کو سومنات بنانے کا بیان دیا تھا۔