کراچی میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کارروائی کے دوران پانچ معروف ادویات کے مختلف بیچز جعلی قرار دے دیے گئے ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے متعلقہ بیچز کے حوالے سے ریپڈ الرٹس جاری کرتے ہوئے صوبائی ڈرگ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔
ڈریپ کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی نے پانچ ادویات کے نمونوں کو جعلی قرار دیا۔ یہ ادویات معدے کی جلن، سینے، ناک، گلے اور گردے کے انفیکشن، الرجی اور پٹھوں کی سوزش سمیت مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
جاری کردہ الرٹ کے مطابق معدے کی جلن کے لیے استعمال ہونے والے میوکین سیرپ کا ایک بیچ جعلی پایا گیا۔ اسی طرح اینٹی بائیوٹک آگمنٹین ٹیبلٹس اور ویلوسیف کیپسول کے بعض بیچز بھی جعلی قرار دیے گئے ہیں۔ آگمنٹین مختلف بیکٹیریائی انفیکشنز جبکہ ویلوسیف بھی انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ڈریپ نے اینٹی الرجک نیزل اسپرے نیزومٹ کے بیچ نمبر ایف ڈبلیو 099 اور پٹھوں کی سوزش کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نوسپا فورٹ 80 ملی گرام کے بیچ نمبر اے این 010 کو بھی جعلی قرار دیا ہے۔
الرٹ کے مطابق یہ ادویات معروف قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے برانڈز کے نام پر تیار کی گئی تھیں۔ پانچوں ادویات کے نمونوں میں خام مال کی تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ حکام کے مطابق انہیں غیر قانونی طور پر تیار کرکے مارکیٹ میں فراہم کیا گیا تھا۔
ڈریپ نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کا معیار اور افادیت غیر واضح ہے اور ان کا استعمال صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے، حتیٰ کہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
اتھارٹی نے صوبائی ڈرگ حکام اور متعلقہ فیلڈ عملے کو ہدایت کی ہے کہ جعلی قرار دیے گئے ادویات کے متعلقہ بیچز فوری طور پر ضبط کیے جائیں۔