تازہ ترین

بلوچستان کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری؟ اہم وزرا کے قلمدان بدلنے کا امکان

0

کوئٹہ: بلوچستان کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور صوبائی کابینہ میں ممکنہ بڑے ردوبدل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی حکومت کی کارکردگی اور سیاسی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ میں بعض اہم تبدیلیوں پر غور کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق میر محمد صادق عمرانی کو صوبائی کابینہ سے الگ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ان کے پاس موجود محکمہ آبپاشی کا قلمدان صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور حاجی علی مدد جتک کو دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری کو بھی دوبارہ حکومت میں اہم ذمہ داری دی جا سکتی ہے اور انہیں وزیراعلیٰ بلوچستان کا مشیر برائے زراعت مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ممکنہ تبدیلیوں میں میر محمد عاصم کرد گیلو کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ کا قلمدان دینے جبکہ حاجی محمد خان لہڑی کو بورڈ آف ریونیو کی ذمہ داری سونپنے کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔

تاہم اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک وزیراعلیٰ ہاؤس یا بلوچستان حکومت کی جانب سے ان تبدیلیوں کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے تمام نام اور قلمدان فی الحال ذرائع کی اطلاعات تک محدود ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تبدیلیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو انہیں محض وزارتوں کے قلمدان تبدیل کرنے تک محدود نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ اس کے اثرات صوبائی حکومت کے اندر سیاسی نمائندگی اور طاقت کے توازن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آبپاشی، زراعت، پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ اور بورڈ آف ریونیو بلوچستان کے انتہائی اہم محکمے سمجھے جاتے ہیں۔ پانی کی قلت، زرعی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور زمینوں سے متعلق معاملات کے باعث ان محکموں کی سیاسی و انتظامی اہمیت بھی نمایاں ہے۔

علی مدد جتک کو پہلے ہی محکمہ داخلہ جیسی حساس ذمہ داری حاصل ہے۔ اگر انہیں آبپاشی کا اضافی قلمدان بھی ملتا ہے تو حکومت کے اندر ان کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب میر علی حسن زہری کی ممکنہ واپسی بھی سیاسی طور پر اہم پیش رفت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق انہیں زراعت کے شعبے میں دوبارہ فعال کردار دیا جا سکتا ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب ہیں کہ آیا یہ مجوزہ تبدیلیاں صرف حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش ہیں یا ان کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے اندر نئی سیاسی صف بندی اور طاقت کے توازن میں بھی تبدیلی آئے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.