پاکستان سمیت 8 ممالک نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد کردی
آٹھ اسلامی ممالک کا بڑا اعلان، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش مسترد
اسلام آباد:
غزہ میں جاری انسانی بحران اور فلسطینی عوام کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش مسترد کردی ہے۔ آٹھوں ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے نکالنے کے کسی بھی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، انڈونیشیا، قطر اور اردن کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق بیانات اور منصوبوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کوئی بھی کوشش ان کے بنیادی حقوق کیلئے سنگین خطرہ ہوگی۔ آٹھ اسلامی ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے نکالنے کے کسی منصوبے کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
جبری بے دخلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار
مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے۔
اسلامی ممالک نے اس امر پر بھی زور دیا کہ فلسطینی عوام کو اپنے مستقبل اور اپنی سرزمین کے حوالے سے بنیادی حقوق حاصل ہیں، جنہیں کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کی مخالفت
پاکستان سمیت دیگر ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کو زبردستی نکالنے کی اسرائیلی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کسی بھی ایسے منصوبے کو مسترد کردیا جس کے نتیجے میں فلسطینی آبادی کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑے۔
اعلامیے میں اس مؤقف کو دہرایا گیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطے میں مزید انسانی اور سیاسی بحران پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ
آٹھوں اسلامی ممالک نے فلسطین کے مسئلے کے مستقل حل کیلئے 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی ضمانت خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم ہوگا۔
پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، انڈونیشیا، قطر اور اردن کا یہ مشترکہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور غزہ سے ان کے انخلا کے کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔