ایران پر امریکی معاشی دباؤ بڑھ گیا، کیا تہران آبنائے ہرمز پر سمجھوتے کیلئے تیار ہوگا؟
استنبول:خلیج میں کشیدگی اور ایسے تنازع کے کئی ماہ بعد جس نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ایران اس وقت غیر معمولی معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے سخت پابندیوں اور بحری ناکہ بندی نے تہران کی تیل کی برآمدات، غیر ملکی کرنسی تک رسائی اور عالمی مالیاتی نظام سے روابط کو شدید متاثر کیا ہے، تاہم اب بھی یہ واضح نہیں کہ یہ دباؤ ایران کو اپنے اہم مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکے گا یا نہیں۔
علاقائی ذرائع اور ایرانی حکام کے مطابق واشنگٹن نے ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے ایک سخت معاشی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ امریکی حکام کو امید ہے کہ مسلسل معاشی مشکلات تہران کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانے اور کسی ممکنہ سمجھوتے کی جانب بڑھنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل اور ایل این جی سپلائی گزرتی ہے۔
ایران کو معاشی نقصان زیادہ پہنچنے کا دعویٰ
امریکی اور علاقائی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں شپنگ متاثر کرنے کی کوششیں وہ عالمی معاشی بحران پیدا نہیں کرسکیں جس کی تہران کو توقع تھی۔
دوسری جانب ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے والی امریکی کارروائیوں کے باعث حکومت کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ عالمی توانائی مارکیٹس نے بھی متبادل ذرائع اور سپلائی لائنز کے ذریعے صورتحال کو کسی حد تک سنبھال لیا ہے۔
ایرانی تجزیہ کار آرش عزیزی کے مطابق طاقت کا توازن کسی حد تک ایران کے خلاف گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، جس کے باعث اس راستے پر اس کا دباؤ محدود ہوا ہے، جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایرانی معیشت کو خاصا متاثر کیا ہے۔
عزیزی کے مطابق تہران کو امید تھی کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا اور امریکا مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور ہوگا، تاہم ایسا نہیں ہوا اور دیگر ممالک نے صورتحال کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرلیا۔
تہران اب بھی اپنے مطالبات پر قائم
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید معاشی دباؤ کے باوجود ایران نے ابھی تک اپنے بنیادی مطالبات ترک نہیں کیے۔
تہران پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں تک رسائی اور آبنائے ہرمز میں اپنے سکیورٹی کردار کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق موجودہ تعطل ختم کرنے کیلئے ایران اور ثالثوں کے درمیان ایک نئے فارمولے پر بات چیت بھی جاری ہے۔
کیا تہران امریکی دباؤ برداشت کرسکتا ہے؟
تین سینئر ایرانی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی معاشی مہم کو برداشت کرنا تہران کیلئے بتدریج مشکل ہوتا جارہا ہے۔
حالیہ اقدامات نے ایران کیلئے غیر ملکی کرنسی کے حصول، اشیائے ضروریہ کی درآمد اور عالمی مالیاتی ذرائع تک رسائی محدود کردی ہے، جبکہ مہنگائی، تجارت میں کمی اور عوامی آمدنی پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ معاشی حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں ملک میں دوبارہ بڑے پیمانے پر احتجاج اور بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔
حکام کے مطابق ایندھن اور گندم سمیت بعض اہم درآمدی اشیا کی قلت بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن رہی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے امریکی حکمت عملی کو ایک ’’ون ٹو پنچ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بحری ناکہ بندی کے ساتھ تاریخ کی سخت ترین پابندیاں شامل ہیں۔
امریکی، اسرائیلی اور بعض علاقائی حکام کا خیال ہے کہ معاشی مشکلات ایران کے اندر سیاسی اثرات بھی پیدا کرسکتی ہیں، جن میں عوامی بے چینی، قیادت کے اندر اختلافات اور حکومت کی گرفت کمزور ہونے کے امکانات شامل ہیں۔
تاہم مخالف رائے رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران متعدد پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کیا ہے اور ممکن ہے کہ موجودہ قیادت بھی دباؤ برداشت کرنے میں توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہو۔
ایران کی مزاحمت کا اصل امتحان
سابق امریکی مذاکرات کار ڈینس راس کے مطابق واشنگٹن ممکنہ طور پر ایران کی معاشی مشکلات کو اپنی حکمت عملی کی کامیابی سمجھ رہا ہے، حالانکہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ان کے مطابق ایران اب بھی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے، تاہم بظاہر تہران مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے اپنے اقدامات میں محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے۔
راس کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک حلقہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ ایران معاشی مشکلات برداشت کرتے ہوئے امریکی دباؤ سے زیادہ عرصہ مقابلہ کرسکتا ہے، اس لیے فوری طور پر سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
عوامی برداشت بھی اہم عنصر
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی سینئر ریسرچ فیلو برکو اوزچیلک کے مطابق ایران کی مزاحمت کا انحصار صرف حکومت کی معاشی صلاحیت پر نہیں بلکہ عوام کے رویے پر بھی ہوگا۔
ان کے مطابق معاشی دباؤ سے عوامی بے چینی کا خطرہ ضرور بڑھتا ہے، لیکن جنگی ماحول، بیرونی فوجی مداخلت، شہری ہلاکتوں اور امریکا کی قیادت میں وسیع تر عالمی محاذ آرائی کے تاثر نے ایرانی عوام میں حکومت کیلئے کسی حد تک حب الوطنی، برداشت اور صبر کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
اس صورتحال کے باعث واشنگٹن کیلئے ایران سے اپنی شرائط منوانا توقع سے زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے ممکنہ سمجھوتے کا راستہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تعطل ختم کرنے کا ایک ممکنہ راستہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کے معاملے میں سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔
ڈینس راس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے کے مطالبے سے دستبردار ہوسکتا ہے، جبکہ اسے جائز نیوی گیشن، سکیورٹی یا ماحولیاتی خدمات کے عوض فیس لینے کا حق دیا جاسکتا ہے۔
ایسا معاہدہ دونوں فریقوں کو سیاسی طور پر کامیابی کا دعویٰ کرنے کا موقع دے سکتا ہے اور تہران کیلئے بغیر کھلی پسپائی کے اپنی پوزیشن میں تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے۔
راس کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان ہوجائے تو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کسی معاہدے کیلئے تیار ہوسکتے ہیں۔
یوں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ایران معاشی طور پر کتنا نقصان اٹھا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ دباؤ تہران کو کسی سمجھوتے پر مجبور کرنے کیلئے کافی ہوگا یا نہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان غلط اندازے یا مزید کشیدگی خطے کو ایک اور بڑے تصادم کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔