تازہ ترین

مکہ دفاعی اتحاد، عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات

0

استنبول: مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے اہم اجلاس کے آغاز کے ساتھ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کی کوششیں تیز ہوگئیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے اہم ملاقات کی، جس میں دفاعی اور اسٹریٹجک رابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔

یہ اعلیٰ سطحی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نئے مکہ دفاعی اتحاد کو محض ایک معاہدے کے بجائے باقاعدہ اور مؤثر سکیورٹی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی جانب پیش رفت کررہے ہیں۔

تینوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کی شرکت اس اجلاس کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ مکہ دفاعی اتحاد کے نئے فریم ورک کے تحت پہلی مرتبہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان ایک مخصوص کمیٹی کے ذریعے اتحاد کی مستقبل کی سمت طے کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون کا روڈ میپ تیار کرے گی اور ان عملی شعبوں کی نشاندہی کرے گی جہاں فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔

مرکزی اجلاس سے قبل بھی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی رابطے جاری رہے۔ ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ترکیہ کی وزارت دفاع نے ان ملاقاتوں کی ویڈیوز بھی جاری کیں، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔

مکہ دفاعی اتحاد کا قیام 7 اگست کو پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے عمل میں لایا تھا۔ اتحاد کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان سیاسی رابطہ کاری، دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک سکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اب استنبول اجلاس کے ذریعے توجہ اتحاد کے اعلان سے آگے بڑھ کر اس کے عملی طریقہ کار اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل پر مرکوز ہوگئی ہے۔

کمیٹی اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے عملی روڈ میپ تیار کرنے اور مشترکہ عسکری تعاون کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی توقع ہے۔

ترکیہ کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچک بائرکتار اوغلو شریک ہیں۔

پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کررہے ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اجلاس میں شریک ہیں۔

تینوں ممالک کی خارجہ پالیسی، دفاعی اور عسکری قیادت کی ایک ہی فریم ورک کے تحت موجودگی استنبول اجلاس کو نمایاں اسٹریٹجک اہمیت دے رہی ہے۔

مکہ دفاعی اتحاد کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ سیاسی اعلان سے آگے بڑھ کر مستقل اور مؤثر رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے۔ استنبول میں ہونے والی بات چیت سے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی روابط، وسیع تر عسکری تعاون اور عملی دفاعی شراکت داری کی بنیاد رکھنے کی توقع ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.