تازہ ترین

جنگ نہیں چاہتے، جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے: ایرانی صدر

0

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں خاموش نہیں رہے گا اور ملک کی سلامتی و خودمختاری کے دفاع کے لیے حملہ آوروں کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

انادولو ایجنسی کے مطابق مسعود پزشکیان نے یہ بیان امریکی حملے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں دیا۔ ایرانی صدر کرغزستان روانگی سے قبل گفتگو کررہے تھے، جہاں وہ ایک بین الاقوامی سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن اگر اس کے خلاف دوبارہ حملہ کیا گیا تو ملک جارحیت کرنے والوں کو سخت اور فیصلہ کن جواب دے گا۔

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران کسی بھی نئی جارحیت کو نظر انداز نہیں کرے گا اور اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات تمام ممالک کو متاثر کرسکتے ہیں۔

مسعود پزشکیان کا یہ بیان امریکا کی جانب سے ایران کے جزیرہ لارک پر حالیہ حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ حملے کے بعد ایران کی جانب سے بھی خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایرانی صدر کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک جانب جنگ کے مزید پھیلاؤ سے گریز کا عندیہ دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب کسی بھی نئے حملے کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کا مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.