آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے قطر ایران مذاکرات
قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے، جہاں انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے امکانات پر ایرانی حکام سے اہم مذاکرات کیے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
تہران میں قطری وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کے مختلف امکانات زیر بحث آئے۔
مذاکرات کے دوران قطر اور ایران نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مشترکہ منصوبے پر بھی غور کیا۔ دونوں ممالک کے حکام نے ایک ایسے عارضی انتظام پر بات کی جس کے تحت مکمل بحری آمدورفت کی بحالی تک جہازوں کو محدود پیمانے پر محفوظ راستہ فراہم کیا جاسکے اور سمندری نقل و حرکت سے وابستہ خطرات کم کیے جاسکیں۔
قطری اور ایرانی حکام کے درمیان زیر غور تجویز میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک عارضی مشترکہ شپنگ کوریڈور قائم کرنا شامل ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تجارتی جہازوں کے لیے فوری طور پر نسبتاً محفوظ بحری راستہ فراہم کرنا ہے، تاکہ معمول کی مکمل آمدورفت بحال ہونے تک عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جاسکے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہے۔ یہ اہم بحری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور دنیا کے تیل اور ایل این جی کے ایک بڑے حصے کی نقل و حرکت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے کی بحری سلامتی کی صورتحال عالمی سطح پر بھی خاصی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان بھی حالیہ دنوں آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستہ قائم کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق بات چیت ہوچکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات کے حتمی نتائج اور آبنائے کو معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کی شرائط تاحال واضح نہیں ہیں۔
قطری وزیراعظم کا ایران کا دورہ صرف بحری آمدورفت کے مسئلے تک محدود نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر سفارتی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ قطر خطے میں ثالثی کے لیے سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ دوبارہ آگے بڑھایا جاسکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آچکا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود بارودی سرنگیں تلاش کرکے صاف یا ناکارہ بنا دی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے مرکزی بحری راستے میں بارودی سرنگوں کی صفائی کی تصدیق کی ہے۔ اس کے باوجود ایران اور عمان کے ساتھ بارودی سرنگوں کی صفائی اور عارضی بحری راستے سے متعلق جاری مذاکرات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور علاقائی بحری سلامتی اب بھی اہم سفارتی معاملات میں شامل ہیں۔