ایرانی صدر کا خلیج فارس میں امریکی فوجی کارروائیوں پر اظہارِ تشویش
ماسکو: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر عالمی توانائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں اور یکطرفہ پابندیوں سے بین الاقوامی توانائی منڈیاں عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہیں۔ انہوں نے گیس پیدا کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ توانائی کی عالمی منڈیوں کے تحفظ اور رسد میں خلل سے بچنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔
ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (جی ای سی ایف) کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے امریکی اقتصادی پابندیوں اور ایران کے خلاف مبینہ بحری و فضائی ناکہ بندیوں پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج فارس میں فوجی مداخلت تیل اور گیس کی فراہمی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے سیاسی مذاکرات کے دوران دو مرتبہ ایران پر حملے کیے، جن سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور رسد کا نظام متاثر ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کے اثرات صرف ایران یا مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی سلامتی اور بین الاقوامی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
پزشکیان نے پابندیوں اور ناکہ بندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بڑے گیس اور توانائی پیدا کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کی مذمت کریں۔ ان کے مطابق خلیج فارس میں امریکی فوجی سرگرمیاں توانائی کی قیمتوں، سپلائی چین اور نقل و حمل کے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی اقتصادی ترقی کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے جی ای سی ایف کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مذاکرات، تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے ذریعے عالمی گیس منڈیوں کو مستحکم بنانے کی حکمت عملی تیار کریں۔ ایرانی صدر نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور گیس کی پیداوار، پراسیسنگ، نقل و حمل اور استعمال کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران جی ای سی ایف کے بانی ارکان میں شامل ہے اور اس کے پاس دنیا کے دوسرے بڑے ثابت شدہ قدرتی گیس ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایران کے تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
ایرانی صدر کے مطابق قدرتی گیس ایران کی مجموعی توانائی کھپت کا تقریباً 70 فیصد ہے، جبکہ ملک کی تقریباً 95 فیصد آبادی کو قومی گیس نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یکطرفہ پابندیوں کے باوجود ایران نے گیس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور وہ دنیا کا تیسرا بڑا گیس پیدا کرنے والا ملک ہے۔
انہوں نے عالمی گیس منڈیوں میں منصفانہ قیمتوں، رسد و طلب میں توازن، ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی غربت میں کمی کو بھی اہم قرار دیا۔ ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں روس، ایران، قطر اور دیگر گیس پیدا کرنے والے ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔