تازہ ترین

اکتوبر کو لانگ مارچ ہوا تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگ سکتی ہے، حکومتی ذرائع

0

پشاور: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے لانگ مارچ کے مستقبل پر مشاورت تیز کردی ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کے مطابق 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کی صورت میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان پر بھی بات ہوئی ہے۔

پشاور میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کا اجلاس رات گئے تک جاری رہا، جس میں حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور لانگ مارچ سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے مؤقف اختیار کیا کہ 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کی صورت میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا آپشن موجود ہے، جبکہ حکومتی اتحاد کے بعض دیگر نمائندوں نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت آن لائن اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ حکومتی وفد کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی شرط سامنے رکھی جائے اور ملاقات کی صورت میں دیگر معاملات پر بھی پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق علامہ راجا ناصر عباس کے ہمراہ پی ٹی آئی کے دو سے تین رہنماؤں کو کوٹ لکھپت جیل میں قید پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کیلئے بھیجنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

رات گئے اجلاس میں لانگ مارچ کو مؤخر کرنے یا مقررہ تاریخ پر جاری رکھنے کے معاملے پر بھی مشاورت جاری رہی۔

اس سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر میں مذاکرات ہوئے، جن میں حکومتی وفد کی جانب سے خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورت حال اور صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق تحفظات پیش کیے گئے۔

پی ٹی آئی کے مذاکراتی وفد میں شامل علامہ راجا ناصر عباس نے صوبائی حکومت کے خلاف حکومتی مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن دہشت گردی کے بجائے سیاسی معاملات پر بات کرنے کیلئے مذاکرات میں آئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.