ٹرمپ کی گرتی مقبولیت، مڈٹرم انتخابات میں ری پبلکن کو بڑا خطرہ
واشنگٹن: امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی ری پبلکن پارٹی کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے، جبکہ تازہ جائزوں میں صدر کی مجموعی منظوری مسلسل 30 فیصد کی سطح پر دکھائی دے رہی ہے۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو ری پبلکن پارٹی کو نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں ایوان نمائندگان سمیت کانگریس میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
تازہ CNN پول میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری 34 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 50 فیصد امریکیوں نے ان کی کارکردگی کو سختی سے مسترد کیا۔ CNN کے مطابق ٹرمپ کی نیٹ منظوری تقریباً 21 پوائنٹس منفی ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے اس میں نمایاں بہتری نہیں آئی۔
رائے عامہ کے جائزوں میں ٹرمپ کے لیے ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت کے ووٹرز میں بھی حمایت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اگست کے ایک Economist/YouGov سروے میں ری پبلکن ووٹرز کے درمیان ٹرمپ کی منظوری 79 فیصد تک رہی، جو ان کے دوسرے دورِ صدارت کی کم ترین سطحوں میں شامل ہے۔
ایران جنگ بھی ٹرمپ کی مقبولیت پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہے۔ تازہ Reuters/Ipsos سروے کے مطابق صرف 31 فیصد امریکی ایران میں امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ٹرمپ کی مجموعی منظوری 33 فیصد پر برقرار ہے۔
اس کے علاوہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں، معیشت اور تجارتی پالیسیوں سے متعلق عوامی خدشات بھی ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج بن رہے ہیں۔ تجارتی محاذ پر کینیڈا کے ساتھ کشیدگی اور تجارتی جنگ نے بھی ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
Pew Research Center کے مطابق مڈٹرم انتخابات میں 42 فیصد ووٹرز کہتے ہیں کہ ان کا ووٹ ٹرمپ کے خلاف ہوگا، جبکہ صرف 22 فیصد اسے ٹرمپ کے حق میں ووٹ قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو ٹرمپ کی کم مقبولیت ری پبلکن امیدواروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتی ہے، تاہم انتخابات سے قبل ابھی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے امکانات موجود ہیں۔