لاڑکانہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے مناسب تیاری اور منصوبہ بندی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک میں نہ مطلوبہ ماحول ہے اور نہ ہی ایسی تبدیلی کے لیے مکمل منصوبہ بندی موجود ہے، غیر منظم انداز میں صوبوں کی تقسیم سنگین مسائل اور عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
لاڑکانہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث ماضی میں بھی کئی مرتبہ سامنے آتی رہی ہے، تاہم اتنی بڑی تبدیلی سے قبل مناسب تیاری اور جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔
انہوں نے نئے صوبوں کی تقسیم کے مطالبات کرنے والے بعض افراد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبے پہلے ہی 18ویں ترمیم کے تحت ملنے والے وسائل کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنی جماعت کے سیاسی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وہ پیپلز پارٹی کے خلاف ایک بڑی تحریک کی قیادت کرچکے ہیں، جبکہ تحریک بحالی جمہوریت کے دوران پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر بھی کام کیا۔ ان کے مطابق سیاست میں حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور سیاسی تعلقات کی کوئی مستقل حد نہیں ہوتی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے 2018 اور 2024 کے عام انتخابات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں ادارہ جاتی مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کسی بھی ادارے کی مداخلت سے آزاد ہونے چاہئیں۔
انہوں نے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سیاسی اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیاست دان اپنے اصولوں پر قائم رہیں اور مداخلت کی مزاحمت کریں تو زیادہ مضبوط ہوسکتے ہیں۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی خراب صورتحال نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔
فضل الرحمٰن نے سیاسی استحکام اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ان کے حالیہ بیانات کے بعد ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل اور اس کے لیے درکار سیاسی و انتظامی تیاری سے متعلق بحث مزید نمایاں ہوگئی ہے۔