کوئٹہ: پشتون آبادی والے علاقوں میں بدامنی اور دیگر دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کوئٹہ میں تین روزہ پشتون قومی جرگہ شروع ہوگیا، جہاں سیاسی اور قبائلی قیادت نے موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی اختلافات ختم کرکے متفقہ قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔
ایئرپورٹ روڈ پر نواب ایاز خان جوگیزئی کی سربراہی میں شروع ہونے والے جرگے کے افتتاحی سیشن سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے خطاب کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں، نوابوں اور قبائلی مشران کو اپنے اختلافات بھلا کر پشتون قوم کے لیے مشترکہ قومی لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پشتون قومی جرگہ کسی ایک سیاسی جماعت کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ پشتون قوم کے مسائل، امن اور مستقبل سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرگہ بلوچوں کے خلاف نہیں، بلوچ اور پشتون صدیوں سے ہمسائے اور برادر اقوام ہیں اور دونوں قومیں ایک دوسرے کے ساتھ امن اور برادرانہ تعلقات چاہتی ہیں۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان تمام قومیتوں کا مشترکہ ملک ہے اور آئین و قانون کے مطابق ہر قوم کو مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے پشتون علاقوں میں اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضوں اور ڈیمارکیشن سے متعلق مسائل فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
پشتون علاقوں کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ خطہ معدنی دولت سے مالا مال ہے، لیکن اس کے باوجود مقامی نوجوان روزگار کے لیے بیرون ملک مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اور خطے میں طویل جنگوں نے عوام کو شدید نقصان پہنچایا، اب مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، اتحاد اور سیاسی شعور کے ذریعے تلاش کرنا ہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور خطے کی بڑی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ خطے کو مزید پراکسی جنگوں اور خونریزی کا میدان نہ بنایا جائے۔
جرگے میں زیارت سمیت مختلف علاقوں میں پیش آنے والے بدامنی کے واقعات، شہریوں کو درپیش مشکلات، چیک پوسٹوں اور تلاشی کے معاملات، امن و امان، زمینوں کے تنازعات اور قدرتی وسائل پر حقوق سمیت مختلف اہم امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
محمود اچکزئی کے مطابق گرینڈ جرگے کے ذریعے ریاست، ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کے سامنے پشتون قوم کے متفقہ مطالبات پیش کیے جائیں گے، جبکہ مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
تین روزہ جرگے میں مختلف سیاسی و قبائلی نمائندوں کی مشاورت کے بعد پشتون علاقوں کے مسائل کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔