ایل این جی کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے اثرات اب براہِ راست پاکستانی گھریلو صارفین کے ماہانہ گیس بلوں پر پڑنے لگے ہیں، جہاں سوئی ناردرن گیس کمپنی کے ایل این جی بنیاد پر کنکشن رکھنے والے ہزاروں صارفین کو معمول سے کہیں زیادہ بل موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ ایل این جی کی قیمت تقریباً 7 ہزار 200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی، جسے بنیاد بنا کر ایل این جی کنکشن رکھنے والے صارفین کی بلنگ کی گئی۔ اس سے قبل یہی صارفین تقریباً 3 ہزار 700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے بل ادا کر رہے تھے۔
یوں ایل این جی کی لاگت میں نمایاں اضافے کا اثر براہِ راست گھریلو صارفین کے ماہانہ اخراجات پر پڑا اور کئی صارفین کو معمول سے کہیں زیادہ رقم کے بل موصول ہوئے۔
توانائی مارکیٹ میں حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سپلائی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ایل این جی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ اگست میں ریگسیفائیڈ ایل این جی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ایل این جی بنیاد پر فراہم کیے گئے گھریلو کنکشنز کی قیمت عالمی مارکیٹ اور درآمدی گیس کی لاگت سے منسلک ہونے کے باعث مقامی گیس صارفین سے مختلف ہوتی ہے۔ حکومت نے مقامی گیس کے محدود ذخائر اور بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر ایسے کنکشنز کی اجازت دی تھی۔
بھاری بل موصول ہونے کے بعد متاثرہ صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ کنکشن فراہم کرتے وقت انہیں عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات کا بہتر اندازہ لگا سکیں۔
صارفین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل این جی کنکشنز کی قیمتوں اور بلنگ کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے اور غیر معمولی عالمی قیمتوں کی صورت میں ریلیف کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔