اسلام آباد: پاکستانی معیشت میں استحکام کے اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے ہیں، جہاں صارفین کے اعتماد، معاشی صورتحال اور مستقبل میں بہتری کی توقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں معاشی سمت کے حوالے سے عوامی سوچ میں بہتری آئی ہے، جبکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے امکانات بھی مثبت رجحان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ ریسرچ کمپنی آئی پی ایس او ایس (Ipsos) کے کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس سروے کے مطابق پاکستان میں صارفین کے مجموعی اعتماد کے انڈیکس میں 0.4 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 33.6 کی سطح پر پہنچ گیا۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو درست سمت میں گامزن سمجھنے والے افراد کی شرح بڑھ کر 24 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ اگست 2024 میں یہ شرح صرف 11 فیصد تھی۔ اسی طرح ملک میں معاشی بہتری کی امید رکھنے والے افراد کی تعداد بھی گزشتہ دو سال کے دوران 12 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 23 فیصد ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضروری گھریلو اشیاء کی معمول کی خریداری کے حوالے سے صارفین کے اطمینان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس شرح میں 3 فیصد بہتری کے بعد یہ 10 فیصد تک پہنچ گئی۔ گھر یا گاڑی جیسی بڑی خریداری کے لیے صارفین کے اعتماد میں بھی 2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ شرح 7 فیصد ہوگئی۔
سروے کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد کی شرح 15 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر مستحکم رہی۔ اس کے علاوہ معاشی صورتحال، روزگار اور سرمایہ کاری سے متعلق گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس (GCCI) میں بھی بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق صارفین کے اعتماد اور معاشی توقعات میں بہتری معیشت میں بحالی کے لیے اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات نے عوامی اعتماد کی بحالی میں بھی کردار ادا کیا ہے۔