کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اگست کے دوران مہنگائی کی شرح 11 فیصد رہی۔
شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور شرح سود فوری کم کرنے کا مطالبہ کیا۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ بلند شرح سود کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں، جبکہ زیادہ شرح سود پیداواری لاگت میں اضافے اور کاروباری مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو معاشی ترقی کے لیے شرح سود میں نمایاں کمی کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ملک میں کاروبار اور معاشی نمو کی رفتار تیز کرنے کے لیے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مانیٹری پالیسی میں بھی شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھی تھی۔