لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں جاری سیاسی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر جامع سیاسی مکالمے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں سمیت تمام اہم معاملات پر ان کیمرہ پارلیمانی اجلاس بلا کر بات چیت کی جائے اور اختلافات کو دلیل اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور خیبر پختونخوا میں عملاً کوئی حکومت نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے بعض علاقوں میں طالبان کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہاں ان کی جانب سے حکومت سے بھی زیادہ ٹیکس وصول کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کے خاندان کے افراد بھتہ نہیں دیتے، اسی وجہ سے ان کے بیٹوں اور بھتیجوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
صوبوں کے معاملات سے متعلق بات کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ نواز شریف اور ان کی سوچ ایک جیسی ہے، تاہم فرق یہ ہے کہ وہ اس معاملے پر کھل کر بات کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف خاموش ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور نہ ہی بیرونِ ملک سے سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ ان کے مطابق وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی تجارت بھی شدید متاثر ہوچکی ہے، حالانکہ ماضی میں سبزیوں اور پھلوں سمیت مختلف اشیا کی تجارت اس خطے کے ساتھ ہوتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے معدنی ذخائر پر اختیار کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ معدنی وسائل کے حوالے سے ان کا مؤقف تھا کہ معاملات کو عوام کے سامنے لایا جائے اور معدنی ذخائر سے حاصل ہونے والے فوائد میں وفاق، صوبوں اور عوام کا واضح حصہ مقرر کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور صوبائی مسائل کا حل طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات اور باہمی اتفاقِ رائے میں ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی سطح پر سنجیدہ مکالمے کا آغاز کرنا چاہیے۔