تازہ ترین

سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع مقصد ہے، یمن پر حملہ نہیں,مصر

0

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی مدد فراہم کرنے کا مقصد اس کی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے، نہ کہ یمن پر حملہ کرنا۔ ان کے مطابق مصر درخواست موصول ہونے پر کسی دوسرے عرب ملک کے دفاع کے لیے بھی مدد فراہم کر سکتا ہے۔

صدر السیسی نے یہ بات ’مصر فورم 2026‘ کے عنوان سے منعقدہ سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ مصر سمیت کسی بھی ملک کی یمن جنگ میں فوجی مداخلت سے تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔

صدر السیسی نے ہفتے کے روز پارلیمنٹ سے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ممکنہ فوجی معاونت سعودی عرب کی جانب سے باضابطہ درخواست کیے جانے سے مشروط ہے۔

مصری پارلیمنٹ نے اس معاملے پر دو غیر معمولی خفیہ اجلاس منعقد کیے، تاہم مزید غور و خوض کے لیے کارروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمنٹ میں صدر کے حامی ارکان کی اکثریت کے باعث اس تجویز کی منظوری کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسن رشاد نے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کو صدر السیسی کا خط پہنچایا۔ خط کے مندرجات ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم یہ سفارتی رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصر سعودی عرب کی ممکنہ فوجی معاونت کے معاملے پر غور کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.