پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کے مطالبے پر جماعت اسلامی نے ملک بھر میں پُرامن احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکراتی عمل بھی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کی مذاکراتی ٹیموں کا مشترکہ اجلاس 23 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور وفاقی وزیر احسن اقبال کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیاقت بلوچ کے مطابق 23 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان ملاقات بھی طے پانے کی توقع ہے۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے مطالبے پر 23 اکتوبر کو ملک گیر پُرامن احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی مذاکرات اور احتجاج دونوں سلسلے ساتھ ساتھ جاری رکھے گی تاکہ عوام کو معاشی ریلیف مل سکے اور ملک میں معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ عوام پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت ضروری اقدامات کیے جائیں۔ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے پر حکومتی مؤقف اور ممکنہ پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔