پاکستان میں افغان مہاجرین کے معاملات اور انسانی ہمدردی سے متعلق تحفظات پر تبادلہ خیال کے لیے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفرون انجینئر امیر مقام نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی پاکستان میں نمائندہ نوریکو تاکاگی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے قوانین اور پالیسیوں کے تحت مہاجرین سے متعلق معاملات نمٹانے اور حساس کیسز کے جائزے کے لیے تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔
امیر مقام نے نوریکو تاکاگی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ کی حیثیت سے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ ملاقات میں وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفرون کے سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری، چیف کمشنر افغان مہاجرین اور یو این ایچ سی آر کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان قومی قوانین اور پالیسیوں پر عمل درآمد کے ساتھ حقیقی انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھے گا۔ انہوں نے افغان مہاجرین کے حوالے سے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران یو این ایچ سی آر کے تعاون اور حمایت کو بھی سراہا۔
نوریکو تاکاگی نے افغان مہاجرین کی طویل عرصے تک میزبانی کرنے پر پاکستان کی تعریف کی اور حکومت کے پالیسی فریم ورک کو تسلیم کیا۔ انہوں نے ایسے کمزور اور غیر محفوظ افراد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جنہیں اپنے ملک واپس بھیجے جانے کی صورت میں سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، اور ان کے کیسز کا محتاط جائزہ لینے پر زور دیا۔
امیر مقام نے کہا کہ ایسے معاملات جن میں جان یا سلامتی کو حقیقی خطرات لاحق ہونے کے قابلِ اعتبار شواہد موجود ہوں، ان پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام کو ایسے کیسز کا جائزہ پاکستان کے قوانین، پالیسیوں، طے شدہ طریقہ کار اور قابلِ اطلاق بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق لینا چاہیے۔
ملاقات میں حکومت اور یو این ایچ سی آر کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ امیر مقام نے کہا کہ موجودہ قانونی اور پالیسی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے انتہائی حساس کیسز کے جائزے کے لیے زیادہ منظم طریقہ کار پر غور کیا جا سکتا ہے۔
نوریکو تاکاگی نے انسانی ہمدردی اور تحفظ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ بات چیت اور تعاون جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے پاکستان کے قوانین، حکومتی پالیسیوں اور انسانی ہمدردی کی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان مہاجرین سے متعلق معاملات پر رابطہ کاری جاری رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔