اسلام آباد: سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دو الگ کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے گورندر-ماشکیل میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کے تحت کی گئیں۔
جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے فتنۃ الخوارج کے مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک جبکہ ان کے ٹھکانے تباہ کردیئے گئے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے علاقے گورندر-ماشکیل میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کارروائی کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے علاقے میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور بعد ازاں فرار ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ رپورٹ کیا جارہا ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جو اگست میں ہونے والے 199 حملوں کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکام سے بارہا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے، جبکہ افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس معاملے پر متعدد مذاکراتی ادوار بھی ہوچکے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیاں بدستور ایک اہم تنازع بنی ہوئی ہیں۔