اسلام آباد- وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی عمل موجود ہے اور حکومت سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے، تاہم بے گناہ شہریوں کا خون بہانے اور ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام خصوصی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم آئین اور قانون کے دائرے میں سیاسی اختلاف اور مسائل کے حل کے تمام جمہوری راستے کھلے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخ، جغرافیہ، سماجی ساخت، سیاسی ارتقا اور موجودہ زمینی حقائق کو مربوط تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ محض مخصوص واقعات یا یک طرفہ بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے ماضی اور حال کو سمجھنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل مؤثر گورننس، میرٹ، سیاسی شمولیت، نوجوانوں کے لیے مواقع، معاشی ترقی اور ریاستی رٹ کے مؤثر نفاذ سے جڑا ہے۔ بلوچستان ہزاروں سال پرانی تہذیبی تاریخ رکھتا ہے اور مہرگڑھ اس کی قدیم تہذیبی اہمیت کا نمایاں ثبوت ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مختلف ادوار میں بلوچستان میں مقامی معاشروں، قبائلی نظام، خانیت قلات، برطانوی دور اور بعد ازاں پاکستان کے سیاسی و انتظامی نظام سمیت مختلف حکومتی و سیاسی ڈھانچے تشکیل پاتے رہے۔ ان کے مطابق تاریخی معاملات پر رائے قائم کرتے وقت اصل ماخذ، مستند دستاویزی ریکارڈ اور مصدقہ حوالہ جات سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے پسماندگی کو واحد سبب قرار دینا درست نہیں۔ ترقیاتی تفاوت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم کسی بھی علاقے کی محرومی یا پسماندگی کو تشدد اور معصوم شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت ہر سطح پر نوجوانوں کو سن رہی ہے اور ان کے مسائل کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے۔
میر سرفراز بگٹی کے مطابق حکومت بلوچستان نے عوامی خدمات کے شعبوں میں متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اے آئی کی بنیاد پر میرٹ پر بھرتیاں، ہزاروں غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اسکول سے باہر بچوں کی واپسی، نئے اسکولوں اور کلاس رومز کا قیام، کنٹریکٹ پر میرٹ کی بنیاد پر تقریباً 17 ہزار اساتذہ کی بھرتی، صحت کی سہولیات میں توسیع اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن اور ترقی لازم و ملزوم ہیں۔ امن و امان کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، جدید پولیسنگ، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں، مؤثر پراسیکیوشن اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر توجہ دی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ بلوچستان میں ایسا ماحول پیدا کیا جارہا ہے جہاں نوجوان تشدد کے بجائے تعلیم، روزگار اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنے مستقبل کا راستہ بنائیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل پر قومی سطح کی بحث تحقیق اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ حقائق کو تصورات سے الگ کرکے پالیسی سازی کو زمینی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار راستہ آئین، جمہوری سیاست، مؤثر گورننس، تعلیم، معاشی مواقع اور امن و امان کے باہمی امتزاج میں ہے۔ ماضی کو درست طور پر سمجھتے ہوئے حال کے چیلنجز کا حقیقت پسندانہ جائزہ اور مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ہی بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی جانب آگے لے جاسکتی ہے۔